We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

عثمان بزدار کی ’’ریٹنگـ‘‘کیسے بہترہو؟

13 18 59
27.10.2018

ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ملک میں تبدیلی آئے مگر جب اس طرف قدم اٹھانے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی ہے توپتہ چلتا ہے کوئی اپنی خو نہیں بدلنا چاہتا ۔ہم سب نہیں تو کم ازکم بیشتر لوگ اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلامی نظام آئے مگرکبھی عملدرآمد نہیں ہوپاتاکیونکہ کوئی بھی شخص بلاتفریق اس نظام کی زد میں نہیں آنا چاہتا ،سب چاہتے ہیں کہ دوسروں پر اس کا اطلاق ہو۔ہم سب کی فرمائش ہے کہ سخت اور کڑا احتساب ہو لیکن یہ عمل ہمارے سیاسی مخالفین تک محدود رہے۔کون نہیں چاہتا کہ ملک میں قانون کی عملداری ہو؟ ہاں البتہ ہم سب کی منشا یہ ہے کہ ہمیں استثنا حاصل رہے۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری ہونی چاہئے لیکن ہمیں چھوٹ دیدی جائے ۔اگر ہم مدعی ہیں تو پولیس ملزموں کو حوالات میں الٹا لٹکا کر چھترول کرے لیکن اگر ہم ملزم ہیں تو انسانی حقوق اور عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تفتیش کی جائے ۔ہم چاہتے ہیں کہ سیاست سے جاگیرداروں اور وڈیروں کا اثر و رسوخ ختم ہو ،متوسط طبقے کے لوگ سامنے آئیں لیکن کوئی عام آدمی الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو ہم اسے یہ سوچ کر گھاس نہیں ڈالتے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہے ،اس کے پاس بڑی گاڑی ہے نہ بینک بیلنس ،ہمیں اس سے کیا ملے گا ؟

برسہا برس سے قبضہ گروپ دندناتا پھر رہا تھا ،ایسی اندھیر نگری کہ جب جہاں چاہا زمین ہتھیا لی ،پہلے ڈھابہ اور جھگی بنتی ہے ،پھر دکان اور کچامکان مگر قبضے کے فطری مراحل طے ہوتے ہی پلازے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کتنی ہی حکومتیں آئیں اور چلی گئیںمگر ان قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کی جا سکی کیونکہ سیاسی مفادات اور مصلحتیں آڑے آتی رہیں ۔لاہور میں قبضہ گروپ کی دیدہ دلیری کا یہ........

© Daily Jang