سمے کا دھارا وہ قافلہ ہے جو ہر وقت رواں دواں رہتا ہے۔ کوئی بھی موسم ہو، کوئی بھی رُت ہو، دن ہو کہ رات ہو، خزاں ہو کہ بہار ہو، دھوپ ہو یا بارش ہو سمے کا دھارا بہتا رہتا ہے۔ اپنے اردگرد زندہ وجودوں کی بھاگ دوڑ دیکھنے والے ہم سب اس چھلاوے سے بے نیاز رہتے ہیں۔ ہر لمحے کے اثبات کی گواہی دینے والا یہ دھارا ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا دریا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا، جس کی روانی حالات کی کسی اونچ نیچ سے متاثر نہیں ہوتی، نہ یہ حکم مانتا ہے اور نہ درخواست قبول کرتا ہے۔ یہ احساسات سے ماورا ہے۔ نہ تھکتا ہے، نہ بوڑھا ہوتا ہے۔ چلنا اس کی زندگی ہے اور یہی اس کی شناخت بھی ہے۔ فطرت نے اس کی جو رفتار سیٹ کی ہوئی ہے یہ اس کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ ہمارے دُکھ سکھ اور انتظار کی کوئی کیفیت اسے نہ رُکنے پر مجبور کر سکتی ہے اور نہ ہی تیز بھاگنے پر قائل کر سکتی ہے۔ ہمارے سامنے ہر طرف اک روانی کا بہائو ہے، ہر کوئی حرکت میں ہے۔ کائنات کی ٹریفک اپنی اپنی ڈگر پر محوِ سفر ہے۔ ہم یہ سب دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وقت کا دھارا کسی دن ہمیں اس مقام تک لے جائے گا جہاں ہماری رفتار ساکت ہو جائے گی۔ کوئی رعب دبدبہ، طاقت اور دولت کام نہیں آئے گی۔ اصل مسئلہ اور پریشانی جو ہر ذی روح کو لاحق ہے وہ سمے کے اس دھارے سے مطابقت اختیار نہ کر سکنا ہے۔ کبھی ہم وقت سے آگے نکلنے کی چاہ میں اتنا بھاگتے ہیں کہ منزلوں کا تعین کرنے والا رستہ ہم سے بچھڑ جاتا ہے۔ زندگی بے مقصدیت کی دھند میں اندھا دھند ہاتھ پائوں مارنے لگتی ہے اور ہم بے دم ہو کر گر جاتے ہیں۔ ایسا کئی بار ہوتا ہے۔ کئی بار خود کو سنبھالتے ہوئے ہم دوبارہ سفرکا آغاز کرتے ہیں لیکن رفتار کی سوئی سے ہم آہنگی نہیں ہو پاتی۔ یوں کبھی ہم اتنا پیچھے رہ جاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مقام پر ٹھہر گئے ہوں۔ وقت سے آگے بڑھ جانے اور پیچھے رہ جانے والوں کی زندگی مشکلات اور مسائل سے بھری ہوتی ہے۔ جس طرح آگے نکلنے والوں کی دانش اور فطانت زمانے سے برداشت نہیں ہوتی اسی طرح پیچھے رہ جانے والے اپنے دور کی ترقیوں اور کامیابیوں کو خود میں جذب نہیں کر پاتے۔ زندگی جب ڈگر سے ہٹ جاتی ہے توایک امتحان بن جاتی ہے۔ شاید وقت سے آگے نکلنے والا فرد ہی نئے امکانات کی بات کرتا ہے۔ ابھی تک وقوع پذیر نہ ہونے والے واقعات تحریر کرتا ہے۔ ان دیکھے جہانوں کے خواب لفظوں میں تصویر کرتا ہے اور خواہش کو مجسم کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ شاعر کے خواب میں معاشرے کی امیدوں کی دھڑکن سمائی ہوتی ہے۔ وہ اجتماعی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس لئے اس کے خواب سماج کے ہر فرد کے خواب بن جاتے ہیں۔ وہ پہلی سیڑھی پر کھڑے فرد کو اپنے ساتھ چھت پر لے جاتا ہے اور اسے ستاروں کے وسیع جہان کا حصہ بنا دیتا ہے۔ اس کے لفظ تحریک بن جاتے ہیں۔ ایسی تحریک جو شمع کی طرح جلتی ہے، سورج کی طرح ابھرتی اور خوشبو کی طرح پھیلتی ہے۔ خوابوں کی اس پنیری سے نظریہ جنم لیتا ہے جو حالات و واقعات کا رخ موڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یوسف خالد بھی ایک خواب دیکھنے والا شاعر ہے۔ وہ دل کی کیاریوں میں ست رنگے پھولوں کی پنیری اُگانا چاہتا ہے جو اس کے جہان کو معطر کر دے، اس کی آنکھوں کو جگمگا دے مگر رنگوں، خوشبوئوں اور اجالوں کے طلب گار کو ایک صبح اس کیاری میں فلسفے کے سوال کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے جواب اس کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تسکین کے لئے بھی ضروری ہیں۔ ان کی تمام نظمیں احساسات کے پھولوں سے شروع ہو کر نظریاتی مکالموں اور مباحث پر ختم ہوتی ہیں۔ ان کی خوبصورت کتاب ’’سمے کا دھارا‘‘ جس کا انتساب راقم کے نام ہے، میں ایسی کئی نظمیں موجود ہیں جو اپنے اندر کئی کہانیوں کو سموئے ہوئے ہیں۔ اچھی نظمیں پڑھنے کو دل کرے تو سمے کا دھارا ضرور پڑھیں۔ فی الحال اس میں سے ایک نظم سنئے اور لطف اٹھایئے:

موسمِ گل

کیا تم نے کبھی سوچا ہے

جب سبز موسم میں پلتی ہوئی طلب گاری

ملن کے گیت گاتی ہے تو

زمین کی تہ میں خوابیدہ بیج سماعت کے در کھول دیتا ہے

گہری نیند میں ملفوف قوتِ نمو انگڑائی لیتی ہے

ایک مہکتا ہوا انکھوا لبوں پر صدائے لبیک سجائے زمین کا سینہ چیر کر

اپنے ہونے کا اعلان کرتا ہے

موسم کی کشادہ بانہیں اور زندگی کا رس بانٹتی ہوا

آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی ہیں

فضا میں سرشاریاں گھلنے لگتی ہیں

زرخیز زمین کی طرح حساس دل رنگ، خوشبو اور ذائقوں کا مسکن ہوتا ہے

تو پھر یہ کیسے ممکن ہے

کہ دل کی راہداریوں میں پلنے والے جذبے موسمِ گُل کے انتظار میں

بے تاب نہ ہوں

جب معطر ہوا حسّاس دلوں کو لمس کی لذت سے آشنا کرتی ہے

تو نواحِ جاں میں ہر طرف پھول کھل اٹھتے ہیں

کیا کبھی کوئی سبزہ و گل کو نمودار ہونے سے روک سکا ہے

تو سوچو… دل کی سلطنت میں

جب رنگ، خوشبو اور صباحتیں باہم آمیز ہوتی ہیں تو

گیتوں کا رستہ کون روک سکتا ہے

پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز نے پارٹی کے ارکان اسمبلی کا اجلاس آج طلب کر لیا، اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور کیا جائے گا۔

فٹ بال ورلڈ کپ میں جرمنی اور اسپین کے درمیان میچ دلچسپ مقابلے کے بعد ایک، ایک گول سے برابر ہوگیا، جرمنی کو ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کیلئے اگلے مقابلے میں کوسٹاریکا کو ہرانا لازمی ہے۔

انگلش کرکٹ ٹیم پاکستانی سرزمین پر 17 سال بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلئے اسلام آباد پہنچ چکی ہے، ایک روز آرام کے بعد مہمان ٹیم آج سے اپنی کرکٹ سرگرمیوں کا آغاز کردے گی، جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے دوسرے روز بھی ٹریننگ کی۔

فیفا ورلڈ کپ 2022 کے گروپ میچ میں کروشیا نے کینیڈا کو 1-4 سے شکست دے دی۔

عمران خان چور دروازے سے اقتدار میں آئے پتلی گلی سے نکل کر بھاگ گئے، فیصل کریم کنڈی

خاتون کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے داماد نے بیٹی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھا تھا، ملنے بھی نہیں دیتا تھا تھا۔

وزیر محنت سندھ سعید غنی نے دعویٰ سے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو جیل میں ڈالا جاتا تو وہ رو پڑتے۔

انڈوپیسیفک حکمت عملی میں تیزی سے ترقی کرتے چالیس ممالک کے خطے کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے کے علاوہ سب سے زیادہ توجہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین پر مرکوز رکھی گئی ہے۔

جے یو آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد اپوزیشن بیٹھ کر فیصلہ کرے گی۔

پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں ایونٹ کے آخری روز اولمپئن جیولن تھرور ارشد ندیم سب کی توجہ کا مرکز رہے۔

اسلام آباد سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ گجرات مسلم کش فسادات میں بی جے پی قیادت کے براہ راست ملوث ہونے کے بیان پر گہری تشویش ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے کہا کہ تمام نشستوں کے نتائج ریٹرننگ افسران کی تصدیق کے بعد جاری ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق عمارتوں کے ملبے کے نیچے سے کچھ اور لاشیں نکالی گئی ہیں، متاثرہ مقامات پر اب بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

چین میں کورونا کیسز بڑھنے پر کورونا پابندیوں میں اضافے کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے کورونا پابندیوں کے خلاف نعرے لگائے اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

شاہد آفریدی نے بھارتی مداحوں سے پسندیدہ کرکٹرز پوچھے، بھارتی مداحوں نے دھونی، ٹنڈولکر، کوہلی کو پسندیدہ کرکٹرز کہا۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے پی پی چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیراعظم بنوانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

QOSHE - ڈاکٹر صغرا صدف - ڈاکٹر صغرا صدف
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ڈاکٹر صغرا صدف

10 20 0
28.11.2022

سمے کا دھارا وہ قافلہ ہے جو ہر وقت رواں دواں رہتا ہے۔ کوئی بھی موسم ہو، کوئی بھی رُت ہو، دن ہو کہ رات ہو، خزاں ہو کہ بہار ہو، دھوپ ہو یا بارش ہو سمے کا دھارا بہتا رہتا ہے۔ اپنے اردگرد زندہ وجودوں کی بھاگ دوڑ دیکھنے والے ہم سب اس چھلاوے سے بے نیاز رہتے ہیں۔ ہر لمحے کے اثبات کی گواہی دینے والا یہ دھارا ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا دریا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا، جس کی روانی حالات کی کسی اونچ نیچ سے متاثر نہیں ہوتی، نہ یہ حکم مانتا ہے اور نہ درخواست قبول کرتا ہے۔ یہ احساسات سے ماورا ہے۔ نہ تھکتا ہے، نہ بوڑھا ہوتا ہے۔ چلنا اس کی زندگی ہے اور یہی اس کی شناخت بھی ہے۔ فطرت نے اس کی جو رفتار سیٹ کی ہوئی ہے یہ اس کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ ہمارے دُکھ سکھ اور انتظار کی کوئی کیفیت اسے نہ رُکنے پر مجبور کر سکتی ہے اور نہ ہی تیز بھاگنے پر قائل کر سکتی ہے۔ ہمارے سامنے ہر طرف اک روانی کا بہائو ہے، ہر کوئی حرکت میں ہے۔ کائنات کی ٹریفک اپنی اپنی ڈگر پر محوِ سفر ہے۔ ہم یہ سب دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وقت کا دھارا کسی دن ہمیں اس مقام تک لے جائے گا جہاں ہماری رفتار ساکت ہو جائے گی۔ کوئی رعب دبدبہ، طاقت اور دولت کام نہیں آئے گی۔ اصل مسئلہ اور پریشانی جو ہر ذی روح کو لاحق ہے وہ سمے کے اس دھارے سے مطابقت اختیار نہ کر سکنا ہے۔ کبھی ہم وقت سے آگے نکلنے کی چاہ میں اتنا بھاگتے ہیں کہ منزلوں کا تعین کرنے والا رستہ ہم سے بچھڑ جاتا ہے۔ زندگی بے مقصدیت کی دھند میں اندھا دھند ہاتھ پائوں مارنے لگتی ہے اور ہم بے دم ہو کر گر جاتے ہیں۔ ایسا کئی بار ہوتا ہے۔ کئی بار خود کو سنبھالتے ہوئے ہم دوبارہ سفرکا آغاز کرتے ہیں لیکن رفتار کی سوئی سے ہم آہنگی نہیں ہو پاتی۔ یوں کبھی ہم اتنا پیچھے رہ جاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مقام پر ٹھہر گئے ہوں۔ وقت سے........

© Daily Jang


Get it on Google Play