We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سعودی سفیر سے ملاقات

6 0 5
24.10.2018

سعودی عرب اور پاکستان کے مابین کئی عشروں سے بہت ہی قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک نے اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ پاکستان نے جب ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سعودی عرب گئے اور سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے ایٹمی پروگرام ناگزیر ہے اور اگر پاکستان نے ایٹمی طاقت حاصل کرلی تو یہ پروگرام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے دفاع کیلئے ہوگا۔ یہ سن کر سعودی فرمانروا نے ذوالفقار علی بھٹو کو یقین دلایا کہ ’’آپ پیسوں کی بالکل پروانہ کریں اور ایٹمی پروگرام شروع کریں۔‘‘اس طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب نے دل کھول کر مدد کی۔ 1998ء میں جب ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ نے پاکستان پر معاشی پابندیاں عائد کردیں اور ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہونے لگی تو وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب گئے اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اُنہیں گلے لگاتے ہوئے کہا کہ ’’آج پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے ہمیں اتنی خوشی ہے جیسے سعودی عرب ایٹمی طاقت بن گیا ہو۔‘‘ اس کڑے وقت میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کی نہ صرف کھل کر مالی امداد کی بلکہ ادھار پر تیل بھی فراہم کیا۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً جب بھی پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہوئی، سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔

وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل دوسرے دورہ سعودی عرب اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد پاک سعودیہ تعلقات میں پہلے کی طرح گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے۔ گزشتہ دورہ سعودی عرب سے وطن واپسی پر ایک حکومتی وزیر نے میڈیا پر........

© Daily Jang