We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بلوچستان کی نوجوان آنکھوں میں والہانہ چمک

9 2 24
21.10.2018

سندھی، پنجابی، بلوچی ہو کہ پشتو خوشبو

سب کو آپس میں ملاتی ہے مہکتی اُردو

میں کوئٹہ سے واپس کراچی آگیا ہوں۔ لیکن دل ابھی تک وہیں اٹکا ہے۔ کتنی محبتیں ملتی ہیں۔ وہاں خلوص ہے۔ مروت ہے۔ہماری کوشش ہے کہ ملک بھر کے نوجوانوں کو لکھنے لکھانے کی طرف راغب کریں۔ بہت خوشی بھی ہورہی ہے۔ دلی تسکین بھی۔ ہم انتہائوں میں رابطہ چاہتے ہیں۔ ٹوٹے دلوں کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کامیابی ہورہی ہے۔ سرکاری زبان اُردو اور پاکستان کی دیگر قومی زبانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ہم مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کروارہے ہیں۔ لکھنا اُردو میں ہے۔ مگر اپنے اپنے محبوب علاقے کی ثقافت اور ادب کے ماضی حال مستقبل کے بارے میں۔ ملتان اور اس کے گردو نواح کے اضلاع میں سرائیکی ادب و ثقافت کے ماضی حال مستقبل پر مضامین بڑی تعداد میں موصول ہوئے۔ مئی کے گرم دنوں میں تقریب تقسیمِ انعامات منعقد ہوئی۔ اب دوسرا سنگ میل کوئٹہ میں بلوچ ادب و ثقافت۔ پشتون ادب و ثقافت۔ ماضی حال مستقبل کے موضوعات پر مضامین کے انعام یافتگان کے اعزاز میں تقریب بوائے اسکائوٹس ایسوسی ایشن کے جناح ہال میں تھی۔ بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں سے مضامین بھی آئے اور انعام یافتگان بھی۔ جناح ہال میں قائد اعظم کی بڑی تصویر اور دیواروں پر پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت کی رنگا رنگ پینٹنگز۔ اور ان کے درمیان سردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی کی طالبات۔ بلوچستان کے نامور اہل قلم دانشور۔ ایوب بلوچ ۔ سرور جاوید۔ ممتاز یوسف۔ پروفیسر عرفان بیگ۔ سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک۔ نواب غوث بخش باروزئی۔ سابق اسپیکر راحیلہ درانی۔ موجودہ وزیر اطلاعات میر ظہور بلیدی۔ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ جبیں۔

دو نسلوں کے درمیان براہِ راست رابطہ۔ سب اپنے........

© Daily Jang