We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پچاس لاکھ گھر، فلاحی یا ’’خلائی ‘‘منصوبہ؟

14 92 113
16.10.2018

روسی مدبر نکیتا خورشیف نے کہا تھا ’’سیاستدان ہر جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔یہ وہاں بھی پُل بنانے کا وعدہ کر لیتے ہیں جہاں کوئی دریا ہی نہیں ہوتا۔‘‘ خدا جانے نکیتا خورشیف نے یہ بات کس تناظر میں کہی اور انکا اشارہ کس طرف تھا مگر میں جب بھی کپتان کے نئے پاکستان کا تصور کرتا ہوں تو یہ جملہ ’’ہانٹ‘‘ کرنے لگتا ہے۔اونچی اُڑان تو میرے کپتان کی پہچان ہے ہی مگر اب ان کے تخیل و عزم کی پرواز آخری آسمان کو چھونے لگی ہے اور اس کا احاطہ کرنے کیلئے افراد تو کیا مشینوں کی ہمتیں بھی جواب دینے لگی ہیں۔پانچ سال میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو ہی دیکھ لیں۔بتایا گیا ہے کہ پچاس لاکھ خاندانوں کو چھت فراہم کرنے کے اس منصوبے پر 180ارب ڈالر لاگت آئے گی یعنی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے 24300ارب روپے درکار ہونگے۔یہ کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت کا تخمینہ 1450ارب روپے ہے یعنی گھروں کے بجائے اگر ڈیم بنانا چاہیں تو اتنی بڑی رقم دیامیر بھاشا جیسے 16,17بڑے ڈیم اور پاور پلانٹس بنانے کیلئے کافی رہے گی۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے جو 15ارب ڈالر کا قرض ملنا ہے اگر یہ ساری رقم اس منصوبے کیلئے مختص کر دی جائے تو یہ درکار سرمائے کا عشر عشیر نہ ہو۔ایف بی آر خاصی تگ و تاز کے بعد سالانہ 3000ارب روپے جمع کرتا ہے اگر مسلسل پانچ سال تک ایک........

© Daily Jang