We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

خون چوس نوکر شاہی

11 48 65
02.10.2018

قیام پاکستان کے بعد شاید ہی کوئی ایسی سویلین حکومت آئی ہو جس نے افسر شاہی کو نکیل ڈالنے کی کوشش نہ کی ہو ۔لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی کے مصداق بتدریج صورتحال گمبھیر ہوتی چلی گئی۔جب بھی کوئی حکومت بیوروکریسی کا قبلہ درست کرنے کانعرہ مستانہ بلند کرتی ہے تو مجھے مائیکرو مینجمنٹ سے متعلق ایک مشہور کہانی یاد آتی ہے جو حکومتی سطح پر کی جارہی کوششوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔یہ کہانی ہے ایک چیونٹی کی ہے جو بہت محنتی اور مستقل مزاج ہے ۔اسے اپنے کام سے پیار ہے اوروہ صبح سے شام تک بلاتکان کام کرتی ہے ۔اس چیونٹی کے اوپر کوئی نگراں یا سپروائزر نہیں جو اس کے کام کا جائزہ لے ۔دفتر کاایک جنرل منیجر جو خون چوسنے کا عادی ہے اسے یہ بات ہرگز پسند نہیں اور وہ چاہتا ہے کہ دفتر میں کوئی مربوط نظام ہو جس میں ہر شخص جواب دہ ہو۔چنانچہ جی ایم اس چیونٹی پرنظر رکھنے کے لئے بطور سپروائزر ایک بھنورے کی خدمات حاصل کر لیتا ہے۔بھنورے سے کہا جاتا ہے کہ چیونٹی کے دفتر آنے اور جانے کا وقت درج کرو ،اس کے لئے بریک کا تعین کرو اورکارکردگی رپورٹ بنائو ۔بھنورا سب سے پہلے تو ایک گھڑیال منگواتا ہے اور پھر کام کے دبائو کے پیش نظر رپورٹیں تیار کرنے کے لئے کسی اسسٹنٹ کی خدمات مستعار لینے کی درخواست کرتا ہے۔جی ایم بلا حیل و حجت اسسٹنٹ بھرتی کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ایک مکڑی کو سپروائزر بھنورے کی اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت دے دی جاتی ہے۔چیونٹی خوش رہتی ہے ،بروقت دفتر آتی ہے ،کام میں جت جاتی ہے اور کام کرتے ہوئے من پسند گیت گاتی ہے۔اُدھر اپنے کام میں مہارت کی حامل مکڑی ریکارڈمرتب کرتی ہے ،بلاناغہ رپورٹیں تیار کرتی ہے جو سپروائزر سے ہوتی ہوئی جی........

© Daily Jang