We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نواز شریف اپنے بیانیے پر قائم رہیں گے؟

5 6 12
26.09.2018

اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنمائوں شہباز شریف، راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ، عرفان صدیقی، پرویز رشید اور دیگر بہت پراُمید نظرآرہے تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل یہ عدالتی بینچ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو دی گئی اُس سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کررہا تھا جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید، ایک ارب 29 کروڑ روپے جرمانہ، مریم نواز کو 7 سال قید، 32 کروڑ روپے جرمانہ اور اُن کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے ججز کے ریمارکس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ نیب پراسیکیوٹرنے نیب عدالت سے جس طرح اپنے حق میں فیصلہ لیا، آج وہ یہاں اُس طرح کامیاب نہیں ہوپائیں گے۔ اس بات کا اندازہ نیب کو بھی ہوچلا تھا، اِسی لئے فیصلے سے قبل نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت روکی جائے مگر وہاں بھی نیب کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد ہائیکورٹ میں پیشیوں کے موقع پر نیب پراسیکیوٹر کی جھنجلاہٹ سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ زمین اُن کے قدموں سے سرکتی جارہی ہے۔بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، 3 بجے جب........

© Daily Jang