We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

یہ اسمبلی!

29 16 0
19.06.2021

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی اس طرح منتخب ہوئی ہے جس طرح ماضی کی اسمبلیاں منتخب ہوا کرتی تھیں اور نہ یہ اس طرح چل رہی ہے، جس طرح کہ ماضی کی اسمبلیاں چلا کرتی تھیں۔ مثلا ًماضی کی اسمبلیوں کے لئے جب(مارشل لائوں کے دور میں نہیں جمہوری ادوار میں) انتخاب ہوا کرتا تھا تو سب سیاسی جماعتوں کو انتخاب میں حصہ لینے کے یکساں مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) مہیا کیا جاتا تھا لیکن اس اسمبلی کے انتخاب سے قبل عدلیہ، نیب اور میڈیا کو پوری ریاستی قوت کے ساتھ پی ٹی آئی کے حق میں اور دیگر جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ(ن) کے خلاف پوری قوت کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کے ہاتھ پائوں باندھے گئے، الیکٹ ایبلز کو دبائو ڈال کر پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا اور پھر انتخابی میدان سجایا گیا۔ مقامی سطح پر دھاندلی ماضی کے انتخابات میں بھی ہوا کرتی تھی لیکن قومی سطح پر اس کا اہتمام صرف گزشتہ انتخاب میں دیکھنے کو ملا ۔ ماضی میں کوئی انتخاب ایسا نہیں ہوا کہ جس میں ووٹوں کی گنتی پولنگ ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں ہوئی ہو لیکن یہ پاکستانی تاریخ کے پہلے انتخابات تھے کہ جن میں جہاں ضروری سمجھا گیا ، پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر ان کی عدم موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ گنتی کے دوران بعض سیٹوں پر گڑبڑ کی شکایات ماضی میں بھی سامنے آتی رہیں لیکن ان انتخابات میں پہلی مرتبہ یہ مظہردیکھنے کو ملا کہ بعض جگہوں اور بالخصوص بلوچستان، پختونخوا اور کراچی میں تیسرے نمبر پر آنے والوں کو کامیاب ڈکلیئر کیا گیا اور پہلے نمبر پر آنے والوں کو ناکام ۔ بلکہ تجزیہ کیا جائے تو پی ٹی آئی کے موجودہ ایم این ایز میں آپ کو ایک خاص رجحان نظر آئے گا۔ جو لوگ تیسرے نمبر پر آئے تھے لیکن آر ٹی ایس کے فیل ہوجانے کی برکت سے کامیاب ڈکلیئر کئے گئے ، ان کے رویے میں زیادہ جارحیت نظر آتی ہے ۔ جو دوسرے نمبر پر آئے تھے اور کامیاب ڈکلیئر کئے گئے، ان کا رویہ درمیانہ ہے لیکن جو لوگ پرویز خٹک اور اسد قیصر وغیرہ کی طرح سچ مچ الیکشن جیتے تھے،........

© Daily Jang


Get it on Google Play