We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کلثوم اور مریم، نواز شریف کی قوت

4 11 55
19.09.2018

میاں بیوی کا رشتہ زندگی کا سب سے اہم رشتہ ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی ہونے کے باعث فولاد کی طرح مضبوط ہوجاتا ہے اور اولاد کے بعد شوہر اپنی بیوی کو ایک رشتے سے نہیں بلکہ کئی رشتوں سے پہچانتا ہے، دونوں عمر بھر کیلئے ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک جیون ساتھی اگر ساتھ چھوڑ جائے تو انسان بکھر کر رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیں بری خبر سے زیادہ برا اس خبر کا انتظار ہوتا ہے۔ یہی کچھ اس وقت ہوا جب 11 ستمبر کی سہ پہر نواز شریف اور مریم نواز کو ان کے سیل میں یہ خبر سنائی گئی کہ کلثوم نواز اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ جب سیل میں باپ بیٹی یکجا ہوئے تو ایک دوسرے سے گلے مل کر روئے، آج دونوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ چکے تھے اور وہ طوفان جو کئی دنوں سے تھما تھا، وہ آنسوئوں کے رستے بہہ گیا۔ آج جیل میں انہیں دلاسہ دینے اور چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ فولادی قوت کے باپ بیٹی جنہیں مخالفین اب تک توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے تھے، اس صدمے سے تھوڑی دیر کیلئے ٹوٹ چکے تھے۔ اس موقع پر نواز شریف کی اخبار میں شائع تصویر جس میں وہ ایک ٹوٹے اور لٹے شخص کی طرح کھڑے ہیں، نے ہر کسی کے دل کو دکھی کردیا۔ میڈیا پر دونوں کی کلثوم نواز سے آخری ملاقات کی وہ ویڈیو جس نے بھی دیکھی، اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکا جس میں نواز شریف اپنی گرفتاری دینے کیلئے پاکستان آنے سے قبل اسپتال میں اپنی بیٹی مریم کے ہمراہ کلثوم نواز کا آخری بار دیدار کرتے ہوئے اپنی شریک حیات کو پکار رہے ہیں۔ ’’آنکھیں کھولوکلثوم ، میں تمہارا بائوجی ہوں۔‘‘ اس پر بھی جب کلثوم نواز نے آنکھیں نہ کھولیں تو مریم اپنی ماں سے کہہ رہی ہیں کہ ’’امی آنکھیں کھولیں، ابو آئے ہیں۔‘‘ مگر شاید کلثوم نواز تک اُن کی آواز نہ پہنچ سکی۔ بالآخر دونوں باپ بیٹی بستر مرگ پر........

© Daily Jang