menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ایران: نئی قیادت

12 0
04.03.2026

ایران میں سپریم لیڈر کی تبدیلی سے متعلق خبروں نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے قائم کمیٹی نے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے اور باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔

دوسری طرف ایرانی سرکاری ذرائع کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کے مطابق نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی کے لیے اجلاس جاری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس عمل میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ حتمی اعلان آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔

یہ صورتحال صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایران کے سیاسی ڈھانچے، مذہبی قیادت اور علاقائی توازنِ طاقت سے جڑا اہم معاملہ ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر کو "رہبرِ اعلیٰ" کہا جاتا ہے۔ یہ ملک کا سب سے طاقتور عہدہ ہے۔ ایران کا سیاسی نظام 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد تشکیل پایا۔ اس انقلاب کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی۔ انقلاب کے بعد ایران میں "ولایتِ فقیہ" کا نظام قائم ہوا۔ولایتِ فقیہ فقہی نظریہ ہے۔ اس کے مطابق اسلامی معاشرے کی قیادت ایک اعلیٰ درجے کے فقیہ یعنی مذہبی عالم کے پاس ہونی چاہیے۔ وہ ریاستی امور کی نگرانی کرے گا۔

سپریم لیڈر کے اختیارات وسیع ہیں۔ وہ فوج کے سربراہ ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ کا تقرر کرتے ہیں۔ سرکاری میڈیا پر اثر رکھتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلے ان کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ جوہری پروگرام بھی ان کی نگرانی میں چلتا ہے۔

موجودہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای 1989 سے اس منصب پر فائز ہیں۔ وہ روح اللہ خمینی کے بعد دوسرے سپریم لیڈر بنے۔

ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب "مجلس خبرگانِ رہبری" کرتی ہے۔

یہ 88 رکنی مجلس ہے۔ اس کے اراکین عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ لیکن امیدواروں کی منظوری گارڈین کونسل دیتی ہے۔

یہ 12 رکنی ادارہ ہے۔ چھ اراکین سپریم لیڈر مقرر کرتے ہیں۔ چھ عدلیہ کے سربراہ کی سفارش پر پارلیمان منتخب کرتی ہے۔ یہ کونسل قوانین اور انتخابات کی نگرانی کرتی ہے۔

عملی طور پر سپریم لیڈر کے انتخاب میں مذہبی، عسکری اور سیاسی طاقت کے مراکز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر پاسداران انقلاب کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب یا "اسلامی انقلابی گارڈ کور" کو 1979 میں انقلاب کے بعد قائم کیا گیا۔

Islamic Revolutionary Guard Corps ایران کی ایک طاقتور عسکری اور معاشی قوت ہے۔ یہ صرف فوجی ادارہ نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی شعبوں میں بھی گہرا اثر رکھتا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی اس کا کردار اہم ہے، خاص طور پر شام، عراق اور لبنان میں۔

سپریم لیڈر کی تبدیلی میں اس ادارے کی حمایت فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ علی خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا۔

1980 سے 1988 تک جاری رہی۔ یہ جنگ ایران کی انقلابی حکومت کے لیے اہم موڑ تھی۔ اس نے ریاستی ڈھانچے اور فوجی اداروں کو مضبوط کیا۔

مجتبیٰ نے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ وہ قم کے حوزہ علمیہ سے وابستہ رہے۔ انہیں اپنے والد کے سب سے بااثر بیٹے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ اس تحریک کو "گرین موومنٹ" کہا جاتا ہے۔

یہ تحریک انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد شروع ہوئی۔ مظاہرین نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے سختی سے کریک ڈاؤن کیا۔

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق ان مظاہروں کو دبانے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا پس پردہ کردار تھا۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

انہوں نے 2004 میں زہرہ حداد عادل سے شادی کی۔ وہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

2019 میں امریکہ نے ان پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ پابندیاں ایران کے اعلیٰ قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے تھیں۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخاب مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری طرف ایرانی میڈیا محتاط ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اجلاس جاری ہے۔

یہ فرق سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے۔ اسرائیل ایران کی قیادت میں تبدیلی کو قریب سے دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی ہے۔

ایران اور اسرائیل براہ راست جنگ میں نہیں مگر پراکسی تنازعات میں شامل ہیں۔ شام، لبنان اور غزہ میں دونوں کے مفادات ٹکراتے ہیں۔

ایران کا نظام نظریاتی طور پر موروثی نہیں۔ سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان کرتی ہے۔ لیکن عملی سیاست میں طاقت کے مراکز اہم ہوتے ہیں۔

اگر مجتبیٰ خامنہ ای منتخب ہوتے ہیں تو ناقدین اسے خاندانی تسلسل قرار دیں گے۔ یہ اسلامی جمہوریہ کے اس دعوے کے خلاف ہوگا کہ قیادت اہلیت کی بنیاد پر ہے۔

حامیوں کا کہنا ہوگا کہ وہ مذہبی تعلیم یافتہ ہیں۔ جنگی تجربہ رکھتے ہیں۔ اور نظام سے واقف ہیں۔

انتخابی عمل شفاف نہیں۔ عوام کو محدود معلومات ملتی ہیں۔

سپریم لیڈر کے پاس وسیع اختیارات ہیں۔ اختیارات کی تقسیم کمزور ہے۔

قیادت کی تبدیلی ایران کی خارجہ پالیسی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ خاص طور پر جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر۔

مجتبیٰ خامنہ ای علامت ہیں۔ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہوگا۔ پاسداران انقلاب کا اثر برقرار رہے گا۔

اگر کسی اور شخصیت کا انتخاب ہوتا ہے تو طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی تھی۔

ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں کا شکار ہے۔ قیادت کی تبدیلی معاشی اصلاحات کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب تاریخی لمحہ ہوگا۔ یہ صرف ایک عہدے کی تبدیلی نہیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ کے مستقبل کا سوال ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا نام سامنے آنا سیاسی تسلسل کی نشانی ہے مگر یہ فیصلہ داخلی اور خارجی سطح پر بحث کو جنم دے گا لیکن یہ طے ہے کہ ایران کی قیادت میں /تبدیلی پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو گی۔


© Daily AAJ