menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پانی کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہے

19 0
previous day

پانی کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہے

گذشتہ کالم میں ، اس موضوع پر بات کی گئی کہ بھارت کو ہر دریا پر اپر ریپیرین قرار دینا جغرافیائی اعتبار سے درست نہیں۔ بعض اہم دریاؤں میں وہ خود چین کے مقابلے میں ایک درمیانی دریا بردار ریاست ہے۔ تاہم اگر ایک لمحے کے لیے یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ کسی خاص دریا پر بھارت اپر ریپیرین ریاست ہے، تو کیا صرف اسی بنیاد پر اسے یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ زیریں ریاست کا پانی روک دے؟ یعنی بطور جزوی اپر ریپیرین ریاست کے ، جو پانی بھارت سے بہہ کر پاکستان آ رہا ہے کیا اس پانی کا مالک بھارت ہے۔ کیا اپر ریپیرین کے پاس اس کی حدود سے گزرنے والے پانی کی ملکیت ہوتی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔۔ انیسویں صدی کے اختتام تک دنیا میں اس سوال کا کوئی متفقہ جواب موجود نہیں تھا کہ اگر ایک دریا کئی ممالک سے گزرتا ہو تو اس کے پانی پر اصل حق کس کا ہوگا۔ بعض ممالک کا خیال تھا کہ جس سرزمین سے دریا پہلے گزرتا ہے، وہی اس کا اصل مالک ہے۔ اسی سوچ نے 1895ء میں ایک ایسے نظریے کو جنم دیا جسے بعد میں ہارمن ڈاکٹرائن کہا گیا۔ یہ نظریہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان دریائے ریو گرانڈے کے تنازع کے دوران سامنے آیا۔ اس وقت امریکہ کے اٹارنی جنرل جڈسن ہارمن نے رائے دی کہ اگر دریا پہلے امریکی سرزمین سے گزرتا ہے تو امریکہ کو اپنے حصے کے پانی پر مکمل خودمختاری حاصل ہے اور میکسیکو اس پر کوئی قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ نظریہ امریکہ کے عمومی مزاج کے عین مطابق تھا ۔ امریکہ نے دوسروں کے وسائل کو کبھی نہیں بخشا تو یہاں وہ کیسے کسی کو گنجائش دے سکتا........

© Daily 92 Roznama