menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قلم باقی تو خواب باقی

18 0
thursday

قلم باقی تو خواب باقی

چند ادبی دوستوں نے مل جل کر ایک پلیٹ فارم بنایا جس کا نام ہے ’’کوفی کے ساتھ کتاب پر بات‘‘۔ چند صحافی، چند عاشقانِ کتاب اور اہل علم جن میں خواتین و حضرات شامل ہیں ہر ہفتے ایک افسانہ پڑھتے ہیں اور ویک اینڈ پر آن لائن تجزیے میں سب اپنی بہترین رائے پیش کرتے ہیں۔ میں بھی اس کا حصہ ہوں اس دفعہ انتظار حسین کا افسانہ سوئیاں پڑھا۔ اسے پڑھنے کے بعد مجھ جیسی وطن پرست کو خیال آیا کہ کیوں نا اس پر ایک کالم لکھا جائے۔ یہ افسانہ الف لیلوی داستان کے انداز میں بیان کرتا ہے کہ کہیں ایک شہزادی رہتی تھی۔ نہایت حسین ، نازک اور معصوم۔ اس کی آنکھوں میں صبح کی کرنوں کا مدھم رنگ تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بہار کے پھولوں کی مہکتی خوشبو۔ پھر ہر کہانی کی طرح اس گلشن میں ایک دیو آیا اور اسے اٹھا ایک ویران قلعے میں لے جا کر قید کر دیا۔ پھر دہا ئیوں تک وہ آزاد نہ ہو سکی۔ مجھے یوں لگا جیسے اس افسانے کی شہزادی کسی داستان استعارہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام ہیں۔ وہ دیو بھی کوئی افسانوی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے درمیان میں چلتا پھرتا ہے۔ کبھی وہ اقتدار کے ایوانوںمیں بیٹھ جاتا ہے اور کبھی تعصب کے چولے پہن لیتا ہے تو کبھی جہالت کے دیے جلانے لگتا ہے۔ان سب سے پیٹ نہ بھرے تو جھٹ پٹ خود غرضی کے لبادے اوڑھ لیتا ہے۔ انتظار حسین........

© Daily 92 Roznama