menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پیشہ ورانہ تعلیم کا نیا ماڈل

19 0
04.06.2026

پیشہ ورانہ تعلیم کا نیا ماڈل

پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی اور تعلیمی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں روایتی طرزِ تعلیم اور بدلتی ہوئی عالمی منڈی کے تقاضوں کے درمیان فاصلہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف والدین کے لیے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف جامعات مالی دباؤ، محدود حکومتی وسائل اور کم ہوتے تحقیقی فنڈز کے باعث اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی جامع، قابلِ عمل اور دور رس نتائج کی حامل تجویز سامنے آتی ہے تو اسے سنجیدگی سے زیرِ غور لانا وقت کی اہم ضرورت بن جاتی ہے۔ ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ خیال کہ پاکستان کی تمام سرکاری اور نجی جامعات میں ’’اسکول آف پروفیشنل اسٹڈیز‘‘ قائم کیے جائیں، بلاشبہ ایک ایسا ہی انقلابی تصور ہے جو نہ صرف پاکستانی طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ ملکی جامعات کو بھی پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ روایتی چار سالہ ڈگری پروگرام اب اکیلے کامیابی کی ضمانت نہیں رہا بلکہ مہارت، تخصص اور عملی تجربہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور سمیت متعدد ترقی یافتہ ممالک کی جامعات نے اپنی روایتی ڈگریوں کے ساتھ مختصر دورانیے کے پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس، مائیکرو کریڈینشلز اور ڈپلومہ پروگرامز بھی متعارف کروا رکھے........

© Daily 92 Roznama