تشدد کی جڑیں: مسئلہ وہ سوچ ہے جو بندوق اٹھاتی ہے
تشدد کی جڑیں: مسئلہ وہ سوچ ہے جو بندوق اٹھاتی ہے
پاکستان نے کئی دہائیاں دہشت گردی، انتہا پسندی اور مسلح تشدد کے خلاف جدوجہد میں گزار دی ہیں۔ریاست نے جو وقت معاشی ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے میں صرف کرنا تھا وہ بد امنی کا مقابلہ کرتے گزارا۔ اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، معاشی نقصانات ہوئے، سکیورٹی اداروں نے مختلف آپریشن کیے، ماہرین نے شدت پسند گروہوں کے ڈھانچوں کا تجزیہ کیا اور ان کے مالی و انتظامی نیٹ ورکس کا سراغ لگایا گیا۔ لیکن ایک بنیادی سوال ہمیشہ پس منظر میں رہا کہ آخر وہ کون سا فکری محرک ہے جو بار بار نئے ناموں اور نئی تنظیموں کے ساتھ تشدد کو جنم دیتا ہے؟گزشتہ دنوں برادرم ڈاکٹر مشتاق نے اس سلسلے میں ایک تحریر عطا فرمائی ۔میں سمجھتا ہوں کہ سکیورٹی کی اس الگ تھلگ فہم کا کوئی حصہ جسکے پاس ہے اسے قومی سوچ میں شامل ہونا چاہئے۔ اسی بنیادی سوال پر حالیہ تحقیق میں توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ انتہا پسندی صرف بندوق، بم یا تنظیم کا نام نہیں بلکہ ایک مخصوص نظریاتی سانچے کا نتیجہ ہے۔ جب تک اس سوچ کے سرچشمے کو نہیں سمجھا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف کوششیں زیادہ تر وقتی دفاع تک محدود رہیں گی۔ خطرہ ختم کرنے کے بعد بھی وہی فکر کسی نئے گروہ، نئے نعرے اور نئے چہرے کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔ اس تناظر میں "خارجیت" کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ خارجیت ایک تاریخی اصطلاح ہے، جس کا تعلق ابتدائی اسلامی تاریخ کے اس گروہ سے جوڑا جاتا ہے جو سیاسی اختلافات کو عقیدے کا مسئلہ بنا کر........
