ہماری غلط پالیسیوں کا ذمہ دار کون؟
ہماری غلط پالیسیوں کا ذمہ دار کون؟
حالیہ مہینوں میں روس اور طالبان کے درمیان روابط میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً دفاعی اور سکیورٹی شعبوں میں۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ماسکو کے دورے اور دونوں فریقوں کی جانب سے فوجی و تکنیکی تعاون کے اعلانات نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا روس ایک ایسے نظام کو مضبوط بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے اور ان کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں؟ مگر روس کا قصور اس لیے بھی نہیں ہے کیوں کہ یہ بڑے بڑے ملک ’’تاجر‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ ان سے آپ جیسا مرضی اسلحہ خرید لیں ، یہ آپ کو بھاری رقم کے عوض آپ کا دفاعی نظام بھی سنبھالیں گے اور ساتھ جدید سسٹم انسٹال بھی کر کے دیں گے تاکہ دنیا بھر میں ان کی ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ ہو۔ یعنی قصہ مختصر کہ بین الاقوامی سیاست میں ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ روس بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ ماسکو کی نظر میں طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانا وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے، مغربی دبائو کا مقابلہ کرنے اور افغانستان میں اپنے سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات قلیل مدتی جغرافیائی فوائد طویل مدتی سکیورٹی خطرات کو جنم دیتے ہیں۔ افغانستان کے معاملے میں بھی یہی خدشہ نمایاں نظر آتا ہے۔جو پاکستان کے خلاف........
