menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ٹرمپ کا فیصلہ اْنہیں مہنگا پڑ سکتا ہے

31 0
04.03.2026

ٹرمپ کا فیصلہ اْنہیں مہنگا پڑ سکتا ہے

امریکی سیاست میں آمریت پسندانہ انداز اور عسکری جارحیت کا امتزاج ہمیشہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔ ہفتے کی علی الصبح جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارا لاگو میں بیس بال کی ٹوپی پہنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو یہ منظرطاقت کے یک طرفہ استعمال کی علامت تھا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے شخص نے کیا جس کے پاس نہ واضح قانونی جواز تھا، نہ عوامی تائید اور نہ ہی کسی ٹھوس انجام کی وضاحت۔ چند ہی ماہ کے اندر صدر ٹرمپ امریکی فوج کو کیریبین میں کشتیوں کو تباہ کرنے، وینزویلا کی قیادت کے خلاف کارروائی کرنے اور اب ایران کی حکومت کو نشانہ بنانے کے احکامات دے چکے ہیں۔ ان اقدامات کے لیے نہ کانگریس سے باقاعدہ منظوری لی گئی، نہ امریکی عوام کو کسی طویل بحث یا مہم کے ذریعے ذہنی طور پر تیار کیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کو جان بوجھ کر تفصیلات سے دور رکھا جا رہا ہو۔کارروائی کی بنیاد کیا ہے، اس پر کتنی لاگت آئے گی اور بمباری کے بعد کیا ہوگا؟ ایک کارروائی کی گرد ابھی بیٹھتی نہیں کہ دوسری کی دھمکی سامنے آ جاتی ہے۔ یہ تسلسل اتنا تیز اور چکرا دینے والا ہے کہ غیر معمولی فیصلے بھی معمول کا حصہ لگنے لگتے ہیں۔لیکن اب ایک بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ مسلسل فوج کو اپنی ذاتی ترجیحات اور جبلّتوں کا توسیعی بازو بناتے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے وہ اس جنگ کو مختصر رکھنا چاہیں، لیکن جنگیں محض خواہش سے مختصر نہیں ہوتیں۔ نتائج اپنی منطق رکھتے ہیں۔ جو کچھ بھی آئندہ ہفتوں میں ہو، ایک حقیقت واضح ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی طویل جنگوں کا دائرہ ایران تک بڑھا دیا ہے، اور اس کے اثرات برسوں تک پورے مشرقِ وسطیٰ میں گونجتے رہیں گے۔ سب سے فوری سوال اس جنگ کی سمت سے متعلق ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای دہائیوں سے ایرانی سیاست میں ایک سخت گیر قوت کے طور پر موجود رہے ہیں۔ ان کا خاتمہ بظاہر ایک عہد کے اختتام کا تاثر دے سکتا ہے، مگر ایک نوے ملین سے زائد آبادی والے ملک میں اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا؟ ایران کے اندر سب سے زیادہ منظم اور مسلح دھڑے عموماً سب سے زیادہ سخت گیر بھی ہوتے ہیں۔ جب انہیں اپنی طاقت اور وسائل کے لیے براہِ راست خطرہ لاحق ہو تو وہ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ایرانی نظام کمزور ضرور ہوا ہے، مگر وہ اب بھی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی فوجی تنصیبات، خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں شہری اہداف پر حملوں کے امکانات اس ابتدائی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے ذریعے ایران اپنے خلاف ہونے والی تباہی کا بوجھ اپنے ہمسایوں اور حریفوں پر منتقل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا سمندری گزرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں ابتدائی اضافہ اسی خدشے کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر حملے، دہشت گردی کی کارروائیاں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے حملے بھی وقفے وقفے سے سامنے آ سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نظام کی تبدیلی کے لیے جو واحد واضح بات کہی، وہ یہ تھی کہ ایرانی عوام خود اٹھ کھڑے ہوں۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ اگر عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو کیا انہیں خونریز کارروائیکا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بیرونی مداخلت کے بعد طاقت کے خلا اکثر خانہ جنگی کو جنم دیتے ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا اس کی مثالیں ہیں جہاں ابتدا میں بظاہر کامیاب کارروائیوں نے طویل عدم استحکام، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ریاستی ٹوٹ پھوٹ کو جنم دیا۔ایران کی صورت حال بھی پیچیدہ ہے۔ مختلف نسلی اقلیتوں کے اندر علیحدگی پسند رجحانات موجود ہیں۔ اگر مرکزی اقتدار کمزور پڑتا ہے تو یہ تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں، جس سے ہمسایہ ممالک بھی اس بحران میں کھنچے چلے آئیں گے۔ طویل خانہ جنگی یا شدید معاشی بدحالی لاکھوں افراد کو ہجرت پر مجبور کر سکتی ہے۔ ایسے مہاجرین افغانستان، پاکستان، ترکی اور بالآخر یورپ کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ایک نیا انسانی بحران جنم لے گا۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ کیا ان نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تھا؟ یا یہ فیصلہ بھی محض طاقت کے مظاہرے اور فوری سیاسی فائدے کے تناظر میں کیا گیا؟ جدید دنیا میں جنگیں محض فوجی کارروائیاں نہیں ہوتیں۔ وہ سیاسی، معاشی اور سماجی زلزلے بن جاتی ہیں۔امریکہ کی خارجہ پالیسی گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل جنگی کیفیت میں رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی مہمات نے خطے کو پہلے ہی عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ اب ایران کو اس دائرے میں شامل کرنا گویا ایک نئے باب کا آغاز ہے جس کا انجام غیر یقینی ہے۔ صدر ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ طاقت کا مظاہرہ مسائل کو حل کر دے گا، لیکن طاقت کے استعمال کے بعد جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے پْر کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جنگ کا آغاز ایک لمحے میں کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اگر اس اقدام کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ مزید انتشار کا شکار ہوتا ہے، عالمی معیشت ہچکولے کھاتی ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، تو تاریخ اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھے گی؟ممکن ہے آنے والے دنوں میں کچھ عسکری کامیابیاں حاصل ہو جائیں، کچھ اہداف تباہ کر دیے جائیں اور اسے فتح کا نام دے دیا جائے۔ مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ کیا خطہ زیادہ محفوظ ہوگا یا مزید غیر مستحکم؟ کیا امریکہ اپنے اتحادیوں کو قریب لائے گا یا انہیں بھی ایک نئے بحران میں دھکیل دے گا؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ وقتی جوش میں کیا گیا ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ اور بعید نہیں کہ ایک دن خود صدر ٹرمپ کو بھی احساس ہو کہ یہ قدم سیاسی طور پر جتنا جرات مندانہ دکھائی دیتا تھا، عملی طور پر اتنا ہی مہنگا ثابت ہوا۔ بشکریہ : نیو یارک ٹائمز


© Daily 92 Roznama