ٹرمپ کی ایرانی عوام سے ہمدردی کے پس پردہ
ٹرمپ کی ایرانی عوام سے ہمدردی کے پس پردہ
پوری دنیا کی نظریں اس وقت مشرق وسطی کی صورتحال پر مرکوز ہیں، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس بارے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔تاہم ایرانی روحانی پیشوآیت اللہ خامنہ ای کی شھادت کے بعدنہ صرف ایرانی سیاسی ،مذہبی و عسکری قیادت ایک بار پھر متحد ہوچکی بلکہ مکمل طور پر ایک پیج پر نظر آ رہی ہے۔ ایرانی عوام بھی اپنی قیادت کے شانہ بشانہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں نے پورے عالم کو ایک نئی عالمی جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ایسے میں کوئی بھی ملک اپنے آپ کو ایران، اسرائیلی و امریکی جنگ سے الگ نہیں رکھ سکتا۔ اسرائیل و امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے پنٹا گون کے بیانات ایک نہ ختم ہونے والی خونی جنگ کا عندیہ دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوبل عالمی امن کے خواہشمند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ سے جن نتائج کی امید لگائے ہوئے ہیں کیا وہ نتائج حاصل ہوجائیں گے؟ اسرائیل اور امریکہ کی یہ خواہش ضرور ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران میں رجیم چینج ہو جائے جس کے بعد وہ اپنی مرضی سے ایک حکومت قائم کر سکیں۔دفاعی تجزیہ نگار اس کا جواب نفی میں دے رہے ہیں کیونکہ ایران میں انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں بھی رجیم چینج میں کامیابی نہیں ہو سکی ۔ایرانی انقلاب اپنی گولڈن جوبلی کے دروازہ پر دستک دے رہا ہے ۔ ابھی تک صہیونی و امریکی عزائم میں کامیابی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے دونوں ملک کئی بار ایران سے پنجہ آزمائی کر چکے ہیں لیکن ان کا خواب شرمند ہ تعبیر نہ ہوسکا ۔چند ماہ قبل بھی اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف تابڑ توڑ حملے کئے لیکن ان حملوں کے بعد ایرانی قیادت ایک بار پھر پر عزم نظر آئی اور انہوں نے کسی صورت اپنے دفاع سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ایسے میں عالمی امن کے علمبرداروں نے پہلی تنخواہ پر ہی کام کرنے میں عافیت سمجھی ۔ اپنے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنے سوشل میڈیا ٹویٹس اور بیانات میں ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی جتاتے نظر آرہے ہیں۔ وہ یہ بھاشن دے رہے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کے بہت بڑے'' خیر خواہ "ہیں۔ موجودہ ایرانی قیادت کے خلاف وہ منفی پروبیگنڈا کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایرانی عوام کو اپنی ہی قیادت کیخلاف اکسانا ان کی عادت بن چکی ہے جس کو شاید اب ایرانی عوام بھی کو ئی بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لے ر ہے ہیں نہ جانے کیوں انہیں اپنے ملک اور اپنے عوام سے زیادہ ایران اور ایرانی عوام کی فکر کھائے جارہی ہے۔ امریکی صدرایرانی عوام کے کتنے خیر خواہ ہیں اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند روز قبل ایک صحافی نے امریکی صدر کی توجہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی جہاں ایک بھیانک انسانی المیہ نے جنم لیا، انسانیت سسک رہی ہے، معصوم بچوں اور خواتین کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے۔ تین سال سے جاری خانہ جنگی نے افریقہ کے گیٹ وے سوڈان کو ایک کھنڈر میں تبدیل کردیا ہے۔ ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ سوڈانی حکومت کی باغی ملیشیا آر ایس ایف کے کمانڈرز ایک ہی دن میں دو دو ہزار بے گناہ شہریوں کا قتل عام کر ہے ہیں۔ لاکھوں سوڈانی خواتین اور بچے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ سوڈان میں پیدا ہونے والے اس انسانی المیہ میں امریکہ اپنا کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ امریکی صدر نے سوڈان بارے صحافی کے سوال کے جواب میں نہ صرف سرد مہری کا مظاہرہ کیا بلکہ ان کے جواب نے سوڈانی خانہ جنگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا، نہ جانے کیوں انہیں اس موقع پر ایرانی عوام کی طرح سوڈانی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کا خیال نہ آیا ؟ جس سے معلوم ہوتا ہے دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال ہی کالی ہے۔ امریکی صدر نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ سوڈان افریقہ کے صحراء میں واقع ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی کی بھی کوئی حکومت نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ اس ملک بارے میں میں کیا بات کروں؟ سوڈان کی خانہ جنگی کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔اس کی کل آبادی 5کروڑ 25لاکھ نفوس پر مشتمل تھی جس میں سے 60فیصد سے زائد آبادی انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہی ہے۔ جبکہ30فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے ۔ باقی 10فیصد ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکی ہے ۔افریقہ کے گیٹ وے میں ہونے والی خانہ جنگی میں4لاکھ سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے سوڈان کی خانہ جنگی کو ایک انتہائی خطرناک انسانی بحران ضرور قرار د ے چکے ہیں لیکن اس بحران سے نمٹنے کیلئے کسی قسم کا کوئی ـ ''روڈ میپ'' دینے سے قاصر ہیں سوڈان بارے تین سال کے دوران اقوام متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ ، او آئی سی سمیت کسی بھی عالمی اور علاقائی مسلم یا افریقی نمائندہ ادارے نے سوڈان کی خانہ جنگی کو رکوانے کیلئے کوئی مخلصانہ کوششیں نہیں کیں۔ ایک لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ آخر اس بے اعتنائی کی وجہ کیا ہے۔ سوڈان کی 90فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے لیکن امریکہ سمیت دنیا کے کسی ملک کے سربراہ نے بھی سوڈان میں خون مسلم سے کھیلی جانے والی'' ہولی'' کو رکوانے کیلئے آواز بلند نہیں کی آخر امریکہ نے سوڈان کی تباہی پر مگرمچھ کے آنسو کیوں نہیں بہائے۔ بعض طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سوڈانی باغی ملیشیا آر ایس ایف اپنے ہی عوام کیخلاف وحشیانہ کارروا ئیاں کر رہی ہے اس کے جرائم مسلمہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سوڈانی باغی ملیشیا آر ایس ایف کے کمانڈرز کے خلاف پابندیوں کا بھی اعلان کردیا ہے اس کے باوجود امریکی صدر کا کوئی بیان اس بارے منظر عام پر نہیں آیا نتائج بڑے واضح ہیں جہاں امریکی مفادات ہوں گے وہی اس کو ہمدردی کا جذبہ نظر آئے گا ۔
