menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

’’ آج وہ کل ہم ‘‘

24 0
04.03.2026

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا خواب خر گوش سے جھنجھوڑنے والا خطاب پھر سے وائرل ہو رہاہے جس میں وہ نیوکلیئر طاقت کے حصول یا اس کی حامل مسلم ریاستوں ایران اور پاکستان کو تباہ کرنے کا کھلم کھلا اعلان یہ کہتے ہوئے کر رہا ہے کہ یہ دونوں انتہا پسند ہیں۔ اسرائیل کے اس اعلان جنگ اور امریکی سفیر کے ناقابل برداشت انکشاف کہ مشرق وسطیٰ سمیت عرب ممالک پر اسرائیل کا حق ہے اور اس کے بعد پاکستان اپنی سرکوبی کے اعلانات خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا۔ پہلا نشانہ ایران اس لئے ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام کے علا وہ دوسرا گناہ اپنے تیل کا سب سے زیا دہ حصہ چین کو بیچنا ہے جس سے عرب اور خلیجی ممالک متاثر ہورہے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چین امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کوئی مضبوط رد عمل دے گا یا صرف ساتواں بحری بیڑہ ثابت ہو گا؟۔ ایران میں امریکی یورپی اور اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ عین اس وقت میزائل داغے گئے جب خامنائی سمیت ایرانی قیادت اپنے مخصوص بنکروں میں ابھی پہنچی ہی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی بلاک کی مدد سے ایران کی انقلابی حکومت کی رخصتی کے دن قریب آ چکے ہیں اور پہلوی خاندان دیوار گریہ پر حاضری دینے کے بعد یہودیوں کی بیعت کرکے دنیا کو غلامی کے آداب بتا چکا ہے تو ایسے میں چینی حکومت اپنے مستقبل کے منصوبوں کیلئے ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سی پیک کی طرح امریکی بلاک کی دہشت اور وحشت کے سامنے ڈھیر کر دے گی؟۔ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ چین اپنی سر مایہ کاری سے شروع کئے گئے پراجیکٹس کی حفاظت کیلئے ایران پر اسرائیلی یا امریکی حملوں کے خلاف دیوار بننے کی بجائے مذمتی بیانات تک ہی رہے ؟۔ اگر ایسا ہواتو کل کو خلیج سمیت دوسری قومیں روس کی طرح چین پر بھی اپنا بھروسہ کم کر دیں گی۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجیںواپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب ماضی کے بیس برسوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اب اگلے بیس برسوں کو سامنے رکھے گا۔2011 اکتوبر میں امریکی صدر بش نے افغانستان میں امریکی فوجیں لانے کی جو غلطی کی تھی سابق صدر جو بائیڈن اور اب ٹرمپ اسے سائوتھ چائنا سمندر اور ایران سمیت عرب ممالک ،خلیج اور بر صغیر کی طرف موڑنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور سی آئی اے ان علا قوں میں اپنے پلان یک لخت نہیں بلکہ بغیر محسوس کرائے پانچ دس برس پہلے سے ہی شروع کرا دیتی ہے۔ انڈیا پاکستان اور اب افغانستان کی صورت حال سب کچھ بتا رہی ہے۔ کئی برس پہلے میرا ایک کالم ’’ ایران، تیل، خلیج اور چین‘‘ میں امکان ظاہر کیا تھا کہ’’ 2026 میںچین ایران کی تجارت کے اثرات دکھائی دیں گے کیونکہ امریکہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ ایران سے توانائی کے حصول میں چین کی ایشیائی ریاستوں سمیت پرشین گلف میں کرنسی مضبوط ہو‘‘ ۔ ایران اور چین نے جس معاہدے پر دستخط کئے اس میں چینی کرنسی کی شرط نے امریکہ سمیت مغربی ممالک کو چونکا دیا تھا۔ امریکہ جان گیا کہ مڈل ایسٹ کے تیل کے سودے کرنے اور کرانے والے جو مدتوں سے امریکی ڈالر کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں ان کیلئے ایران چین معاہدہ ہوا کا ایک لطیف جھونکا محسوس ہو گا اور وہ بھی چینی کرنسی کی طرف جانے کا سوچیں گے ۔ کیسے ممکن ہے کہ امریکی حکام اورادارے اس سوچ سے بے خبر ہو ں ۔ امریکی بلاک ڈالر کے متبادل کے طورپر چینی یوان کے استعمال کے حق میں نہیں اس لئے جب سعودی عرب چینی کرنسی میں تیل کے سودے قبول کرنے میں تساہل برتے گا تو چینی حکومت یہ کہتے ہوئے سعودیہ سے تیل خریدنا یا تو کم کر دے گی یا وہ یہ کہتے ہوئے خریدبند کر دیں گے کہ آپ کی جگہ ایران چینی کرنسی میں تمام سودے کرنے کیلئے تیار ہے تو پھر ہمیں اپنی کرنسی اور سہولت کیلئے ایران سے ہی تیل خریدنا ہو گا۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس معاہدے سے ایران کی معیشت مضبوط ہو ئی اوراس کی تیل کی بر آمد بڑھنے سے اس کی معیشت کا حجم بھی بڑھاجو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں تھا۔ اس لئے ایران کو گھیرنے کا پلان بنایا گیا اور اس کیلئے پاکستان کی طرح ایران میں بھی رجیم چینج ان کیلئے اہم ہو چکا ہے۔ جون میں امریکہ اوراسرائیل نے ایران کی نیوکلیئر سائیٹ اور عسکری قیادت پر جو حملے کرائے ہیں وہ ایران اور چین کے اعصاب اور رد عمل کا اندازہ کرنے کیلئے کئے گئے۔ کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی حملے سے ایران کا زبردست نقصان ہوا۔کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ چین کو یہ اشارہ دینے کیلئے کیا گیا کہ وہ مداخلت سے باز رہے ؟۔گذشتہ چھ ماہ میں چین کے اعصاب پر سواری کرتے ہوئے اس کے جنوبی سمندروں میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اپنی بحری موجودگی کیلئے مشقیں اسی لئے شروع کرا رکھی ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اس بات کا اشارہ تھا کہ امریکہ اب اپنی پوری توجہ خلیج، ایران، ایشیاء اور بر صغیر کی جانب دے گا ۔ اپنے مضمون ’’ ایران چین تیل اور خلیج‘‘ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شائد اب وہ وقت آ چکا ہے کہ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے پاکستان کے اندر ایسے حالات پیدا کرا دیئے جائیں جس سے امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں مدد مل سکے۔ اگر امریکہ اپنی کسی بھی قسم کی فوجی قوت کو خلیج فارس میں ایران کے تیل کی جانب بڑھاتا ہے تو ایسے میں چین اپنے بحری بیڑے پرشین گلف کی جانب روانہ نہیں کرتا تو سمجھا جائے گا کہ وہ پھر سے ہانگ کانگ کی طرح ’’ تائیوان کے وعدے‘‘ کی آس میں پیچھے ہٹ گیا ہے ۔اگر چین رد عمل کے طو رپر آگے بڑھتا ہے تو اس سے خلیج میں امریکہ کیلئے بے تحاشا مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔ایران بے خوف ہو جائے گا۔ڈالر کی بجائے مڈل ایسٹ افریقہ اور ایشیاء چینی کرنسی یوان کی جانب بڑھنے لگیں گے ۔اورسب سے بڑھ کر چین پرشین گلف میں اپنی فوجی قوت سمیت آ بیٹھے گا۔ چین نے ایران میں400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا 25 سالہ معاہدہ کر رکھا ہے کیا وہ صرف معاہدہ ہی رہے گا ؟۔ نیتن یاہو کی ایران کے بعد پاکستان کو تباہ کرنے کی کھلی دھمکی کیا ہم سب نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی ہے یا اب ہمیں سنائی ہی کم دینے لگا ہے؟ ۔۔!!


© Daily 92 Roznama