menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ایران اسرائیل جنگ اور پاکستان کا سفارتی کردار

34 0
04.03.2026

ایران اسرائیل جنگ اور پاکستان کا سفارتی کردار

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں اِن کیمرہ بریفنگ کا اعلان قومی مشاورت و اتفاق رائے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام کا مقصد محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ حساس سفارتی معاملات پر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔قبل ازیںنائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایران۔اسرائیل صورتحال پر پاکستان کے سفارتی کردار سے آگاہ کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ تھا اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی تھی، اس کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔ یہ بیان دراصل اس وسیع تر عالمی تناظر کی طرف اشارہ ہے جہاں سفارتی عمل اور عسکری کارروائی کے درمیان تضاد نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دو دن پہلے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی مذمت کی تھی۔یوں صدر مملکت، وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم کا موقف پاکستان کی اصولی پوزیشن کا عکاس ہے۔پاکستان نے اس کشیدہ صورتحال میں جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ بظاہر تین اصولوں پر مبنی ہے۔ علاقائی امن کا قیام، سفارتی ذرائع کی حمایت اور مسلم دنیا کے ساتھ یکجہتی۔ اسحاق ڈار کے بقول پاکستان نے نہ صرف فوری ردعمل دیا بلکہ بیک ڈور سفارت کاری کے ذریعے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ چند دنوں میں مختلف ممالک سے رابطے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان براہِ راست محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور مفاہمت کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ایران پر اسرائیلی حملوں کو پاکستان ایک اہم زاویے سے دیکھتا ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کسی بھی خودمختار ریاست پر یکطرفہ عسکری حملے کو بین الاقوامی قانون کے منافی سمجھتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی ملک کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان کا مؤقف عمومی طور پر یہی رہا ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔ اس پس منظر میں ایران پر حملے کو تشویش ناک قرار دینا دراصل اسی اصولی پالیسی کا تسلسل ہے۔ خلیج اور عرب ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا مفہوم بھی محض جذباتی ہم آہنگی نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ پاکستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کے معاملات ان ممالک سے جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ اسی طرح ایران کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی و ثقافتی روابط پاکستان کو ایک منفرد پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا سفارتی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی پالیسی عمومی طور پر محتاط اور متوازن دکھائی دیتی ہے۔پاکستان کا سفارتی کردار دراصل ایک پل کا کردار ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا پل جو مسلم دنیا، خلیجی ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی علاقائی تنازعات میں پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس بار چیلنج زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ ایران۔اسرائیل کشیدگی میں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنی سفارت کاری میں غیر جانبداری، دانشمندی اور خاموش فعالیت کو برقرار رکھنا ہوگا۔دفاعی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان کا بنیادی ہدف اپنی سرحدوں کا تحفظ اور داخلی استحکام ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پہلے ہی جاری ہیں۔ کسی بھی بڑے علاقائی تصادم کی صورت میں سرحدی سلامتی اور مہاجرین کے ممکنہ دباؤ جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے دفاعی اداروں کے لیے پیشگی تیاری اور سفارتی رابطے ناگزیر ہیں۔ پاکستان براہِ راست جنگ کا حصہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا، نہ ہی اس کی معیشت ایسی کسی مہم جوئی کی اجازت دیتی ہے۔پارلیمنٹ میں اِن کیمرہ بریفنگ کا فیصلہ اسی لیے اہم ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر رکھا جائے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن اس حساس مسئلے پر ایک صفحے پر آ جائیں تو عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف زیادہ مضبوط ہو گا۔ داخلی اتحاد خارجی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ اس موقع پر سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ پاکستان اس بحران کو ایک موقع میں بدل سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد مؤثر سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرتا ہے تو اس کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ بیانات اور عملی اقدامات میں ہم آہنگی ہو اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست جذبات سے زیادہ حکمت کا تقاضا کرتی ہے۔ ایران۔اسرائیل کشیدگی صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا بحران ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ نہ صرف امن کا داعی بنے بلکہ عملی طور پر بھی ایسے اقدامات کرے جو افہام و تفہیم کو فروغ دیں۔ قومی اتحاد، متوازن سفارت کاری اور دفاعی تیاری۔یہی وہ تین ستون ہیں جن پر پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی استوار ہونی چاہیے۔ اگر یہ توازن برقرار رہا تو پاکستان اس مشکل گھڑی میں نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے گا بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔


© Daily 92 Roznama