ریلوے میں چوریاں
روزنامہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے میں گزشتہ نو برسوں کے دوران چوری اور خردبرد کے 4403 مقدمات کا اندراج ہوا، جن سے بائیس کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان سامنے آیا۔ یہ اعداد و شمار محض حسابی تفصیل نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کی کمزوری کا اظہار ہیں جو عوامی سفر اور قومی معیشت دونوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ملزمان میں خود ریلوے کے بعض ملازمین، ریلوے پولیس کے اہلکار اور دیگر متعلقہ افراد شامل پائے گئے۔ جب نگران ہی نظام میں شگاف ڈالنے لگیں تو اصلاح کا مرحلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف مقدمات کا اندراج کافی ہے، یا احتساب کے عمل کو نتیجہ خیز بنانا بھی ضروری ہے؟اس صورتحال میں فوری اور ہمہ جہت اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے داخلی نگرانی کے نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ سامان، پرزہ جات اور مالی لین دین کی مکمل ٹریکنگ ممکن ہو۔ دوم، شفاف احتسابی عمل کے تحت ملوث عناصر کو مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ ادارے میں عبرت کا پہلو نمایاں ہو۔ سوم، ایماندار افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ مثبت روایت فروغ پا سکے۔ اگر اصلاح کا یہ موقع ضائع ہوا تو نقصان صرف مالی نہیں بلکہ ادارہ جاتی وقار کا بھی ہوگا۔
