We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

زینب کاقتل یاانسانیت کاجنازہ ۔۔۔۔؟

2 0 1
14.01.2018

دل پھٹ رہاہے۔۔آنکھیں خون سے سرخ۔۔وجودغم سے بھاری۔۔ سرسے پاؤں تک جسم پرکپکی طاری اورہاتھ کانپ رہے ہیں ۔۔اس بے حس معاشرے میں خودجینے کی ہمت نہیں ۔۔ایسے میں کسی اورکوجینے کاحوصلہ کیادیں۔۔؟جس دیس سے ایک نہیں ہزاراورلاکھ بارانسانیت کاجنازہ نکلے وہاں پھرنہ صرف انسانوں کے جینے کی تمام امیدیں دم توڑجاتی ہیں بلکہ ایسے ملک اورمعاشرے میں کسی انسان کوزندہ رہناپھرزیب بھی نہیں دیتا ۔۔کل تک توہم سمجھ رہے تھے کہ کلمہ طیبہ کے نام پربننے والے اس ملک میں انسانیت آخری ہچکیاں لے رہی ہیں لیکن قصورمیں سات سالہ معصوم زینب کے اندوہناک قتل ۔۔درندگی ۔۔حیوانیت اورظلم کی انتہاء کے بعداب ہمیں یقین ہوگیاکہ اس ملک میں جہاں ہم رہ رہے ہیںآ خری ہچکیاں لینے والی ،،انسانیت ،،بھی مرگئی ہے۔شائدنہیں یقینناًانسان نماروبوٹ۔۔جن ۔۔کارٹون اورکھلونے کراچی سے گلگت ۔۔چترال سے کاغان اورسوات سے کوئٹہ تک آج بھی اس ملک میں چہل پہل کررہے ہونگے لیکن ان روبوٹوں۔۔جنوں ۔۔کارٹوں اورکھلونوں کاانسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔۔کیونکہ اگران کاانسانیت کے ساتھ ذرہ بھی کوئی تعلق ہوتاتوبے چاری انسانیت قصورکی گلی اورمحلوں میں اس طرح برسربازارتڑپ تڑپ کرکبھی نہ مرتی ۔۔ زینب کا اندوہناک قتل انسانیت کے ماتھے پرکوئی پہلابدنماداغ ہوتاتوہم بھی حکمرانوں اورسیاستدانوں کی طرح درگزرکردیتے لیکن اس ملک میں توانسانیت کی بے جان روح پرمزیدکسی داغ کے لئے اب کوئی جگہ بچی ہی نہیں ۔۔بے جان جسم کاتوایک بارجنازہ اٹھتاہے لیکن ہم نے تواس ملک سے ہرہفتے اورمہینے انسانیت کاجنازہ اپنے ہاتھوں سے نکالا۔۔میں درندوں کے ہاتھوں انسانیت کاجنازہ بننے والی معصوم ایمان کانوحہ لکھوں ۔یا۔بے سینک انسانیت کی بھینٹ چڑھنے والی فاطمہ کی دردبھری کہانی بیان کروں۔۔میں انسان نماحیوانوں کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کرجان دینے والی فوزیہ کے بدقسمت والدین کاغم بانٹوں۔یا۔تہمینہ کے معصوم جسم کے بکھرے........

© UrduPoint