We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سانحہ قصور، بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ

2 0 0
14.01.2018

قصور میں سات سالہ بچی زینب کے اغوا،جنسی زیادتی ،قتل کے واقعات نے ایک بار بہت سے بنیادی سوالات کو ابھار کر سماج کے سامنے غورکرنے کیلئے پیش کردیا ہے۔جہاں پاکستان میں سماجی جرائم کی شرح نمو میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے وہاں ان جرائم کے خلاف حکمران طبقات اور انکے سوچ وبچار کے ادارے اور عوام دونوں ہی حقیقت پسندانہ رویے کی بجائے خود کو دھوکے میں رکھنے کی پرانی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔عمومی ردعمل کے طور پر حکمران طبقے کے تمام دھڑے ہر واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور واقعہ پر عوامی یا سیاسی ردعمل زیادہ ہونے کی صورت میں کسی بھی سطح کی ایک بے مقصد انکوائیری کمیٹی تشکیل دیدی جاتی ہے۔ جملہ بازی ہمارا قومی مشغلہ ہے ،ایسے ہی ایک جملے کے تکرار میں کہا جاتا ہے کہ ’بچے اور نوجوانوں ہمارا ’مستقبل‘ ہیں۔مگریہ’ مستقبل ‘کسی طور پر بھی قابل رشک حالات میں پرورش نہیں پارہا۔بدقسمتی سے ہمارے بچے اور نوجوان سب سے زیادہ بے سہارا اورغیر محفوظ ہوچکے ہیں۔پاکستان میں بچے کس قدر غیر محفوظ ہیں اس کاکچھ اندازہ قصورمیں زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے کے بعد ہونے والی بحث میں ہواہے۔سب سے اہم بات جو سامنے آئی کہ حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جو بچوں پر ہونے والے جنسی حملوں اور مختلف قسم کے جرائم کے اعداد وشمار مرتب کرنے پر معمورکیا گیا ہو۔حکومتی سطح پر ایسے عمل کا اقرارکرنا ہی محال ہے۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں کی کاوشوں کے بعد ایک کمیٹی نے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے متعلق ایک قانون کا مسودہ تیارکیا تھا ،وہ ایک سال سے قومی اسمبلی میں اپنی منظوری کے انتظار میں ہے۔مگر عمومی طور پر اس قسم کے قوانین کو ’مغرب کی سازش‘ قراردیکر مسترد کردیا جاتا ہے۔ گھروں،مدرسوں،سکولوں،بلیئرڈکلبوں،ورکشاپس میں ہونیو الے جنسی جرائم میں سے زیادہ تر واقعات‘ کسی بھی سطح پر منظر عام پرلائے بغیر خاموشی سے برداشت کرلئے جاتے ہیں۔کچھ سال پہلے یورپ اور امریکہ میں گرجا گھروں کے پادریوں کے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات منظر عام پرلانے کی ہمت کی گئی تو انکے تدارک کیلئے نا صرف........

© UrduPoint