We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جہاں بھی گئے ، داستاں چھوڑ آئے

3 0 0
13.01.2018

حکومت ختم کرنے کا ایک تو آئینی طریقہ ہے ،جیسے بلوچستان میں وزیرِاعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ساتھ ہوا۔ اُن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی لیکن اُنہوں نے رائے شماری سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ پاکستان میں حکومتیں ختم کرنے کا ایک اور طریقہ بھی رائج ہے جسے زیادہ موٴثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ احتجاج، جلاوٴ گھیراوٴ اور دھرنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر دو ،چار لاشیں بھی مل جائیں تو گویا آپ کی لاٹری نکل آئی۔ جس نے کبھی پارلیمنٹ کا مُنہ تک نہیں دیکھا ہوتا، وہ بھی ہزار ،بارہ سو بندے لے کر دھرنا دینے پہنچ جاتا ہے اور حکومت کو انتہائی شرمناک طریقے سے معاہدہ کرکے جان چھڑانی پڑتی ہے۔
مولانا طاہرالقادری تو دھرنوں کے بادشاہ بلکہ شہنشاہ ہیں۔ اُن کا جب جی چاہتا ہے اپنے دیس (کینیڈا) سے آکر دھرنا دے دیتے ہیں لیکن آتے وہ صرف اُسی وقت ہی ہیں جب حکومت مشکل میں ہو تاکہ بہتر ”سودے بازی“ کی جا سکے۔ آجکل وہ پاکستان میں تشریف فرما ہیں۔ آصف زرداری نے تو اُنہیں بانس پر چڑھاتے ہوئے موجودہ دور کا نواب زادہ نصراللہ خاں ہی قرار دے دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاوٴن تو محض ایک بہانہ ہے ،آتے وہ سودے بازی کے لیے ہی ہیں۔ اب وہ 17 جنوری سے تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ”اب استعفے مانگیں گے نہیں لیں گے، بات استعفوں سے آگے چلی گئی۔ جہاں کہیں بھی مسلم لیگ نون ہے ،اُس کا خاتمہ ہوگا“۔
اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ مولانا کے ساتھیوں نے بھی بہت کہا کہ سردی شدید ہے، یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہیں لیکن جادو وہ جو سَر چڑھ کر بولے۔ لال حویلی والے کا کہا حرفِ آخر ٹھہرااور اب مولانا 17 جنوری سے گرماگرم کنٹینر میں تشریف فرما ہو........

© UrduPoint