We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کیا انتخابات شفاف ہوں گے؟

0 0 1
12.07.2018

ایسے انتخابات کو بھلا کون شفاف قرار دے گا جہاں مقتدر ادارے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے گرد گھیرا تنگ کرکے اُسے ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہوں۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کے واحد انتخابات ہوں جن کے نتائج کا ایک عامی کوبھی پہلے ہی سے علم ہو۔ انتخابات میں دھاندلی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جو سیاسی جماعت بھی انتخابات ہارتی ہے ،دھاندلی کا الزام ضرور لگاتی ہے لیکن اُس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا البتہ موجودہ انتخابات میں سب کچھ اظہرمِن الشمس۔ مقتدر اداروں کی کارستانیاں عیاں اور عدلیہ کا گھیراوٴ بھی ظاہر۔ عدلیہ اور ”مہربان“ قدم قدم پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ۔ کئی امیدواروں نے بَرملا کہا کہ اُنہیں نوازلیگ چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

”جیپ سوار“ چودھری نثار علی خاں کے مقابل کھڑا ہونے والا نوازلیگی امیدوار قمر الاسلام بھی اُن میں سے ایک ، جس نے جھکنے سے انکار کیا اور اب وہ نَیب کے پنجہٴ استبداد میں ہے۔ یہ وہی قمرالاسلام ہے جس نے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں اکیالیس ہزار ووٹوں کی لیڈ لے کر نئی تاریخ رقم کی۔ اُس کا قصور ہے تو فقط اتنا کہ اُس نے مہربانوں کے نمائندے کے مدّ ِ مقابل آنے کی جرأت کی۔ 9 جولائی کو احستاب عدالت نے ایک دفعہ پھر اُس کا چودہ روزہ ریمانڈدے دیا، مقصد محض یہ کہ وہ الیکشن کمپین نہ کر سکے لیکن ہمیں یقین کہ عوام کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور اِس حربے کو بھی ناکام بنا دے گا۔
اپنی نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے سوال کیا ”مجھے کیوں نکالا؟“۔ تحریکِ انصاف نے اِس سوال کا خوب مذاق اُڑایا اور سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی بھی بپا ہوا لیکن یہ سوال آج بھی تشنہ، کسی کے پاس اِس کا شافی جواب........

© UrduPoint