We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

زینب کاسفاکانہ قتل ایک لمحہ فکریہ

2 0 0
13.01.2018

ہم بحیثیت ایک کامیاب مسلم معاشرہ کے طور پر اپنے آپکومنوانے میں ناکام ہیں۔اس بات کا احساس زینب جیسی ننھی کلی کے مرجھا جانے کے بعدبخوبی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔یہ غلیظکام کرنے والا ضرور ایک درندہ صفت انسان ہو گا جس کو پکڑ کر عبرت ناک سزادینا حکومت اور پولیس کا کام بنتا ہے۔پورے کا پورا ملک سوگ میں مبتلا ہے۔حقیقت میں جب بچی اغواء ہوئی تب سے پولیس کو حرکت میں آ جانا چاپیئے تھا۔افسوس صد افسوس پنجاب پولیس سے غفلت ہوئی ،ملزم کو گرفتار کر کے بچی کو زندہ بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔ایسی بچی جو قرآنی تعلیمات سے آراستہ ہونے گئی تھی اس کی لاش کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے ملنا ہم سب کے منہ پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔ہم اس معصوم بچی کی لاش کو ڈھیر پر دیکھ کر کب چین سے سو سکیں گے۔والدین کو کب راحت اور انصاف ملے گا؟ یہ سب سوالیہ نشان ہیں جس کا جواب بہر حال پنجاب پولیس کو دینا ہوگا۔زینب کے ساتھ چلنے والے شخص کی ویڈیو دیکھ کر بظاہر یہی لگتا ہے کہ اس ظالم نے یا تو زینب سے رفتہ رفتہ واقفیت پیدا کی اور پھر موقع واردات دیکھ کر اس نے وحشیانہ کام کیا۔یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ قاتل انہی کی فیملی میں سے کوئی دور کا رشتہ دار یا جاننے والا ہو جس نے زینب کا اعتماد حاصل کر کے اسے اغواء کر لیا۔اللہ کرے کہ یہ وحشی درندہ جلد پکڑا جائے اور اپنے انجام کو پہنچے مگر بطور معاشرہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا اور آئندہ طور پر بہت زیادہ محتاط طریقہ سے ایسے بد کردار انسانوں کے خاتمہ کے لئے محکمہ پولیس کی مدد کرنا ہو گی۔اگرچہ بچی کے والدین عمرہ جیسے نیک........

© UrduPoint