We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کوئی نسبت تو ہوئی رحمت عالم سے مجھے!

1 0 0
13.01.2018

دنیا میں خیر و شر اور حق و باطل کی معرکہ آرائی ابتدائے آفرینش سے جاری ہے اوراللہ کی زمین کسی بھی دور میں ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہی جو سچائی کی جنگ لڑتے، حق پر قائم رہتے اور باطل سے دودو ہاتھ کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے لوگ بھی روئے زمین پر ہمیشہ وافر مقدار میں پائے جاتے رہے ہیں جو طاغوت پر ایمان رکھتے، کفرو و شرک پر اڑتے اور حق والوں سے ستیزہ کاری کو اپنا شعار بنالیتے ہیں۔ اقبال کا شعر ہے تو بہت مشہور لیکن اس کی معنویت کی گہرائی اسے ہر دم تازہ و تابندہ رکھتی ہے کہ #
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

آج کی دنیا کے منظر نامے ہر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری اس وقت کی سب سے بڑی عالمی حقیقت ہے۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر میں مغربی سرمایہ داریت اور روسی اشتراکیت کی کشمکش دنیا کی سب سے بڑی معرکہ آرائی قرار پائی اور دنیا کے خطیر وسائل اس جنگ میں جھونکے گئے جبکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد رواں صدی کے آغاز سے پہلے ہی یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ نئی صدی میں مغربی سرمایہ داریت کا ہدف اسلام کا” خطرہ“ ہوگا۔ عالمی طاقتوں نے اس مقصد کے لیے جہاں عراق اور افغانستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں بودے بہانوں سے گرم محاذ کھولے اور لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا، وہیں ساتھ میں نظریاتی جنگ کے لیے ابلاغی ہتھیاروں کو بھر پور طریقے سے بروکار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام سے متعلق تشکیک پھیلانے اور مسلم معاشروں کو اسلامی تعلیمات سے برگشتہ کرنے کے لیے مختلف حربے بروئے کار لائے جانے لگے۔
ان میں سے سب سے خطرناک حربہ مسلمانوں کی محبتوں اور عقیدتوں کے مرکز و منبع محسن انسانیت حضوررسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات پر رکیک حملے کرکے امت مسلمہ کے قلب و جگر کو چھلنی کرنے کا حربہ تھا۔ مغرب جانتا ہے کہ حضور خاتم النبیین سے محبت و عقیدت دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے درمیان بائینڈگ فورس ہے اورآپ کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ کمزور پڑگیا تو اس کے لیے اپنے عزائم کی تکمیل آسان ہوجائے گی۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی حکمت........

© UrduPoint