We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پاک امریکہ تعلقات،رئیل ازم اور گیم تھیوری

4 0 0
14.01.2018

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو یہ شروع دن سے ساس بہو یا سوکنوں والی روایتی لڑائی کی طرح ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی انہونی بھی نہیں ۔ دنیا کے اہم ملکوں کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر ملکو ں کے تعلقات میں آپ کو یہی عنصر دیکھنے کو ملے گا ، فرق ہے تو اتنا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں خارجہ پالیسی کی تشکیل کے لئے تمام متعلقہ ادارے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے باہم مشورہ کرتے ہیں اور اس عمل میں عالمی سیاست کے مسلمہ اصولوں سے کما حقہ استفادہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کا لیکن باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں تو پالیسی کی تشکیل کے ذمہ دار وں کو گھاس تک نہیں ڈالی جاتی ۔
امریکہ جب بھی اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیتا ہے تو اس کا محور ریاست کا قومی مفاد ہوتا ہے ۔ ان کے ادارے اس قدر طاقتور اور پختہ کار ہو چکے ہیں کہ وہاں شخصیات ایک حد سے زیادہ اداروں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ ٹرمپ کو ہی لے لیجئے جس نے اپنی انتخابی مہم میں واضح طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکہ فوجوں کا انخلا یقینی بنائیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد الٹا ٹرمپ نے افغانستان میں مزید فوجی بھیج دئیے ہیں ۔ اب قبلہ ٹرمپ فرماتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دئیے لیکن وہ ہمارے ساتھ ڈبل گیم کرتا رہا۔ پنجابی میں کہتے ہیں ”فٹے منہ تے لکھ دی لعنت“کیسی سپر پاور ہے جسے پندرہ برس تک معلوم ہی نہیں ہوا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔ اصل کہانی یہ ہے کہ امریکہ کو سب معلوم تھا لیکن اس وقت اس معاملے میں بات کرنا امریکی مفاد میں نہیں تھا۔
ہمارے ہاں سرخی پاوٴڈر لگا کر ٹی وی پر تجزیے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ عالمی سیاست میں REALISM(رئیل ازم ) بھی کسی بلا کا نام ہے ۔بنیادی اصول رئیل ازم کا یہ ہے کہ ریاست کو اپنی بقا اور اثرو رسوخ کے پھیلاوٴ........

© UrduPoint