We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

محمد مالک کا یوٹوپیا، بلوائی اور زینب کی لاش

4 0 0
14.01.2018

زینب کے والدین خدا کے گھر میں تھے جب خدا کی ایک بستی میں ایک حیوان نے اس معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا . زینب جس بستی کی رہنے والی تھی اسی بستی کے کسی ایک کونے پر اس بستی کا حکمران خاندان رہتا ہے اور یہ پہلی زینب نہیں تھی اس سے پہلے کتنے معصوم پھول ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن چکے تھے مگر اس ظلم کی آواز ان ایوانوں تک نہیں پہنچی جہاں ہر سازش کی بو سازش ہونے سے پہلے پہنچ جاتی ہے اور جہاں سے پورا دن آواز آتی ہے '' مجھے کیوں نکالا '' اور جہاں کے در و دیوار پر وہ محافظ معمور ہیں کہ جنہیں ریاست ہر اس شہری کی حفاظت کے لیے بھرتی کرتی ہے جو اس مملکت خدا داد کا شہری ہے مگر یہ محافظ ان حکمرانوں کے ذاتی ملازم بن جاتے ہیں . قتل ہو جاتا ہے ، ریاستی ادارے خاموش رہتے ہیں ، محافظ تمسخر اڑاتے ہیں اور صاحب اقتدار اس سانحے کو بھی فوٹو سیشن کا بہترین موقع گردانتے ہیں اور عوام کو کوڑے میں پڑی لاش میں اپنی بیٹیوں کے لاشے نظر آتے ہیں اور وہ نا اہل انتظامیہ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو مزید دو لاشیں اسی بستی کی سڑکوں کو اپنے لہو سے سرخ کرتی ہیں جنھیں ریاست کے یہ محافظ قتل کرتے ہیں جن کا کام ان کی حفاظت تھا . پولیس عام شہریوں پر سامنے سے سیدھی گولی چلاتی ہے اور پھر میڈیا پر بریکنگ نیوز کا سلسلہ چل نکلتا ہے . ایسے میں پاکستان کے ایک نجی چینل پر پاکستان کے جانے مانے ٹی وی اینکر محمد مالک جو اکثر غلط اردو میں '' جس کا '' کو ''جونسا'' بولتے ہیں آتے ہیں اور فرماتے ہیں '' یہ موب جسٹس ( بلوے کا انصاف ) ہے یہ نہیں چلے گا ، پولیس کی نالائقی ہے مگر پولیس پر تنقید نہ کی جائے ، کل یہ لوگ میرے اور آپ کے گھروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور پھر کیا یہ پولیس ہمیں تحفظ دے پائے گی ، کیا یورپ اور امریکہ میں ایسا ہوتا ہے ؟ میڈیا کو احتیاط سے کام لینا چاہیے ، پولیس کی گولی سے مرنے والوں کو میڈیا میں شہید کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ '' .
میں یہ غور سے سن رہا تھا ، میں حیران تھا کہ یہ محبوب اینکر بریکنگ ویوز کے لیے ہر رات جب کوئی ساٹھ ستر ہزار کا سوٹ پہن کر اور کوئی آٹھ دس ہزار کی ٹائی لگا کر عوام کے دکھوں کی بات کرنے کیمرے کے سامنے بیٹھتے ہیں تو اس وقت وہ یہ کیوں بھو ل جاتے ہیں کہ وہ جس ریاست میں رہتے ہیں اس میں یہی بلوائی ہیں کہ جن کے غم کی وہ چورن بیچتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے بلوائی بنے ہیں . مجھے دوسری طرف کوڑے میں پڑی لاش نظر آ رہی تھی اور کانوں میں محمد مالک کے الفاظ سنائی پڑتے تھے کہ یورپ اور امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا . میں یورپ میں رہتا........

© UrduPoint