We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ڈڈار کاڈر

4 0 1
10.09.2018

ڈڈار کاڈر

انگریزی میں اسے بمبل بی کہتے ہیں۔ پوٹھوہاری زبان میں ڈڈار۔ اس کا رنگ شہد کی مکھی سے مشابہہ ہے۔ مگر شکل خوفناک، چیر پھاڑ کرنے والے جبڑے اور زہر آلود ڈنک۔ ڈڈار دوسروں کی کمائی پر پلتا ہے۔ شہد کی بستیوں کو اجاڑنے کا شوقین۔ کاٹ لے تو بچھو کی ٹکر کا زہر، درد، تکلیف اور سوجن۔

شہد کے ذکر نے مجھے دو مقدمے یاد کروا دیے۔ پہلا، ایک مزاحیہ فن کار کا کیس تھا‘ جو این ڈبلیو ایف پی کے زمانے میں تھانہ ترنول کی حدود میں پکڑا گیا۔ الزام تھا: بوتل کی برآمدگی۔ مگر شہد والی بوتل نہیں۔ مرحوم اداکار سوشلسٹ خیالات رکھتے تھے اور طبقاتی تقسیم پر خود کئی لا زوال فلمیں تخلیق کیں۔ یہ مقدمہ شرف فریدی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے درج ہوا تھا۔ تب تک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ ہی جوڈیشل مقدمے سنا کرتے تھے۔ اس دور میں سیاست کاروں اور فن کاروں سے کیمیکل ایگزامینر لیبارٹری ایک جیسا سلوک کیا کرتی تھی۔ لہٰذا جو کچھ صراحی دار لمبی گردن والی بوتل میں تھا‘ رپورٹ میں وہی برآمد ہوا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس طرح کے مال مقدمے میں ہر برآمدگی کے دو سیمپل لیے جاتے ہیں۔ سیمپل A اور سیمپل B۔ ایسی سیمپلنگ کے بارے میں باقاعدہ تحریری رولز موجود ہیں۔ برآمدگی والا مال کتنا قیمتی اور نشاط آور تھا‘ یہ جانتے ہوئے فن کار نے A سیمپل کی رپورٹ چیلنج کر دی۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہB سیمپل اور بوتل کا موازنہ کروایا جائے۔ محرر مال خانہ عدالت میں حاضر ہوا تو یہ راز کھلا کہ یہ قیمتی بوتل غٹاغٹ کرتی ہوئی کسی رندِ بلا نوش کے حلق میں جا بسی ہے۔

دوسرا مقدمہ پنڈی کے پڑوسی ضلع میں درج ہوا‘ جہاں تین دیہاتی پرانی دشمنی میں گولیوں سے بھون دیئے گئے۔ مقدمے کی ایف آئی آر میں تہرے قتل کے وقوعے میں زخمی ہونے والا گواہ مدعی تھا۔ استغاثہ کی کہانی کے مطابق تینوں........

© Roznama Dunya