We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

حضورﷺکی حکمرانی اور جمہوری حکمرانی

1 0 8
friday

حضورﷺکی حکمرانی اور جمہوری حکمرانی

حضرت محمدﷺ مدینہ منورہ کی ریاست کے حکمران ہیں۔ آپ کی زندگی انتہا درجے پر سادگی سے گزر رہی تھی۔ بعض اوقات کئی کئی دن چولہے کے نیچے آگ بھی نہیں جلتی تھی۔ کھجور‘ پانی اور بکری کے دودھ پر ہی گزارہ چلتا تھا۔ ازواج ِمطہراتؓ اپنے عظیم شوہر کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھیں‘ پھر ایسا ہوا کہ فتوحات کی صورت میں مدینہ منورہ نعمتوں اور خوشحالیوں سے آراستہ ہونا شروع ہو گیا۔ حضورﷺ کے ہاتھ مبارک سے مال و دولت اہل مدینہ کو تقسیم ہو رہا تھا۔ صرف گزارے کے لائق گھر والوں کو بھی مل رہا تھا۔ معاملہ ایسا تھا کہ رعایا کے گھروں میں خوشحالی زیادہ تھی‘ جبکہ حکمران کے گھروں میں رعایا کی نسبت بہت کم یا معمولی فرق پڑا تھا۔ مومنوں کی روحانی مائوں نے جب یہ صورت دیکھی تو انہوں نے معاشی خوشحالی کا مطالبہ کر دیا۔ ازواج مطہراتؓ کا یہ مطالبہ اللہ کے رسولﷺ کو ناگوار گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے مزاج کی ناگواری دیکھی‘ تو آسمان سے قرآن نازل فرمایا :''اے میرے نبیؐ! اپنی بیویوں کو بتا دو‘ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کی طلبگار ہو تو پھر میرے پاس آ جائو‘ میں تمہیں دنیا کا سازوسامان دے دیتا ہوں اور پھر تمہیں بہت ہی اچھے طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور آخرت کے محلات چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے‘‘ (احزاب:28,29)۔

اب اللہ کے رسولﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار کر کے ایک الگ تھلگ بالاخانے میں رہائش اختیار کر لی‘ تاکہ جو بی بی دنیا کا مال حاصل کرنا چاہتی ہے‘ وہ آئے اور رخصت ہو جائے۔ آپ جس کمرے میں تشریف فرما تھے‘ وہاں دروازے پر غالباً حضرت بلالؓ تشریف فرما ہو کر بیٹھ........

© Roznama Dunya