We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کہیں تو بھلا ہوگا

5 2 0
12.02.2019

کہیں تو بھلا ہوگا

اس میںکوئی شک نہیں کہ عام طور پر 5 جی نامی موبائل‘ مواصلات کی اگلی نسل میں امریکی برتری ایک غیر معمولی معاملہ ہے ‘ تاہم اس بات سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ چین ایک مضبوط مدمقابل ہے ۔ امریکہ اس منصوبے ‘ یعنی 5جی ٹیکنا لوجیپر 24 ارب ڈالر لگا چکا ہے اور مزیدسرمایہ کاری میں 411 ارب ڈالرخرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔اُدھرچینی حکومت بھی موبائل ٹیکنالوجی میں خود کو رہنما کے طور پردنیا میں منوانے کے لیے کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ان منصوبوں کو قومی منصوبوں کا نام دیا گیا ہے۔ ایک چینی کمپنی 2020ء تک سب سے بڑی تعدادمیںسمارٹ فون بنانے والا کارخانہ تیار کرنے میں سرگرم ہے۔ایسے میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی کمپنیاں موبائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے کیا کر رہی ہیں؟

موبائل ٹیکنالوجی میں جدیدترین ''چپ ‘‘جسے اعلیٰ درجے کے موبائل میں استعمال کیا جاتا ہے ‘ سان ڈیگو کی طرزپر'' کوالکم ‘‘ہے۔ کمپنی موبائل ٹیکنالوجی میں جدت لے کرآئی‘ جس نے ٹیکنالوجی کے خدوخال ہی بدل کر رکھ دیے‘ لیکن اس کے ساتھ قانونی حکمت عملی کا ہونا بھی لازم ہے‘ لیکن کمپنی کوجاری فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مقدمے میں الزامات کا سامنا ہے۔ کوالکم اپنے صارفین کو ایک چپ کی دستیابی اور وسیع پیمانے پر ''پیٹنٹ ہولڈنگز‘‘ کے طور پر موبائل انڈسٹری میںلائسنس کے اجرا کے لیے کام کر رہی ہے ۔ اس پیچیدہ لائسنس سازی سکیم کا اثر ایف ٹی سی کے دعوئوں‘ مسابقتی چپ بنانے والوں کو مارکیٹ سے باہر کرنے پر پڑے گا‘جس سے سمارٹ فون اور موبائل آلات کے سازوسامان میں رعایت مل پائے گی۔

کوالکم کے مدمقابل ایک بڑی امریکی کمپنی ہے ‘جن کی چپ کو سب سے بڑی موبائل بنانے والی کمپنی........

© Roznama Dunya