We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

… نانا جی کی فاتحہ

7 0 1
14.01.2018

… نانا جی کی فاتحہ

پاکستان سمیت ہر پسماندہ اور واماندہ معاشرے میں سو طرح کے ناسور پائے جاتے ہیں۔ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ ہر طرف ایک دوڑ سی لگی ہے کہ کسی نہ کسی طور وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو سوچا جا سکتا ہے اور جو زندگی کا معیار قابلِ رشک بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ آپ سوچیں گے کہ ایسا سوچنے میں کچھ ہرج تو نہیں۔ یقینا نہیں۔ سوال سوچنے کا نہیں، کرنے کا ہے۔ ایک بڑا ناسور ہر اعتبار سے خطرناک ترین ہونے کے ساتھ ساتھ روز افزوں ہے۔ یہ ناسور ہے کچھ کیے بغیر سب کچھ پانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا۔ یہ ناسور تن آسانی سے کئی درجے آگے یا اوپر کی چیز ہے۔ عرفِ عام میں اِسے ہڈ حرامی کہا جاتا ہے۔

ایک دور تھا کہ جب سرکاری ملازمت کو مجموعی اعتبار سے پرسکون ترین معاملہ تصور کیا جاتا تھا۔ عام آدمی کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی یا کیل کی طرح ٹھونک دی گئی تھی کہ سرکاری ملازمت حاصل کیجیے اور لمبی تان کر سو جائیے۔ ایسا نہیں ہے کہ سرکاری مشینری کے تمام ہی پُرزے کوئی کام نہیں کرتے یا مفت کی روٹیاں توڑتے رہتے ہیں۔ یہ عمومی تاثر تھا کہ سرکاری نوکری میں کام کرنا نہیں پڑتا اور نوکری خطرے میں بھی نہیں پڑتی۔ اور پھر عمر بھر کی ہڈ حرامی کا صلہ ا پنشن کی شکل میں بھی ملتا رہتا ہے!

اب زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ سرکاری نوکری بے چاری اب ''امتیازی‘‘ حیثیت کی حامل نہیں رہی۔ جو مزے سرکاری نوکری میں ہوا کرتے تھے‘ وہ اب کہیں بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بیشتر بڑے نیم سرکاری اور نجی اداروں کی جاب بھی اب وہی مزا دیتی ہے جو سرکاری نوکری دیتی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر نے یہ کام اور آسان بنا دیا ہے۔ بظاہر جدید ترین اصولوں اور نظریات کی........

© Roznama Dunya