We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بلوچستان کی محرومی کا تدارک؟

8 0 1
14.01.2018

بلوچستان کی محرومی کا تدارک؟

بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی سربراہی میں چلنے والی حکومت کے سربراہ کے مستعفی ہونے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کے تخلیق کردہ 'جمہوری‘ سیٹ اپ میں ایک نئے سیاسی بحران نے جنم لیا ہے۔ بلوچستان کو سیاسی حقوق اور معاشی 'مراعات‘ دینے کے تمام تر دعووں کے باوجود یہاں کے باسی اب بھی خوشحالی سے کوسوں دور ہیں‘ بالخصوص نوجوانوں میں محرومی کے احساسات بہت ہی گہرے ہیں۔ زہری کا مستعفی ہونا طاقت کے ایوانوں میں بڑھتے ہوئے بحران کا نتیجہ ہے جو سماج میں پھیلی بے چینی سے جنم لیتا ہے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قیمتی دھاتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔پاکستان، ایران ، افغانستان اور بحیرہ عرب سے لے کر خلیج ہرمز تک پھیلا یہ خطہ تجارت کے لیے منافع بخش راستوں اور سٹریٹیجک فوجی خطوں میں سے ایک ہے۔ لیکن بلوچستان بدترین غربت کا شکار اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے خطے کا سب سے پس ماندہ علاقہ ہے۔ بلوچستان کے انسانی ترقی کے اشاریے بشمول جنسی تفریق، ملکی اوسط سے کہیں نیچے ہیں۔ یہاں 70 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ تقریباً 18لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے 5000 سکول محض ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔ خواتین کی شرح خواندگی 16 فیصد ہے (ملکی سطح پر یہ 32فیصد ہے)۔ ملکی سطح پر زچگی کے دوران اموات کی شرح ہر ایک لاکھ میں 278 ہے جبکہ بلوچستان یہ 785ہے۔ تقریباً 15 فیصد آبادی ہیپاٹائیٹس بی اور سی کا شکار ہے۔ خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے کی وجہ سے خطہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور مال مویشیوں کی کمی سے دیہی آبادی کی معاشی حالت مزید ابتر ہو گئی ہے۔

سی پیک سے بلوچستان کی ترقی کے بلند بانگ دعووں کے برعکس گوادر بندرگاہ........

© Roznama Dunya