We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جنوری کی ’’گرمی‘‘

6 0 0
14.01.2018

جنوری کی ’’گرمی‘‘

پاکستان کی سیاسی صورتحال روز بروز تبدیل ہو رہی ہے۔ بلوچستان کی سیاست دیکھ کر سینیٹ انتخابات کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت طاہرالقادری کے نشانے پر ہے... جبکہ سندھ حکومت بھی ''آئی جی سندھ کو کیوں نہیں نکالا؟‘‘ کیلئے سرگرم عمل ہے۔ گزشتہ دنوں عبدالمجید دستی کو آئی جی بنانے کیلئے سندھ کابینہ کا استعمال کیا گیا... ایک بار پھر کشمکش بڑھ سکتی ہے اور مستقبل قریب میں سندھ حکومت بھی توہین سپریم کورٹ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

علم سیاست کے ماہرِ نجوم شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ''ملک میں نواز شریف کی حکومت رہے گی یا فوج اور عدلیہ رہے گی... 2018ء نواز شریف اور اس کی باقیات کے خاتمے کا سال ہے‘‘۔ ملکی سیاست پر نگاہ ڈالیں تو لگتا ہے سارا زور مارچ تک کیلئے لگایا جا رہا ہے... مسلم لیگ ن سینیٹ انتخابات سے نظریں ہی نہیں ہٹا رہی جبکہ جو حال بلوچستان حکومت کا ہوا ہے یہی کچھ مرکز میں بھی ہو سکتا ہے۔ باغی لیگی ارکان اب بھی کئی لوگوں سے رابطے میں ہیں... وہ صرف تیل اور اس کی دھار دیکھ رہے ہیں... ہوا کا رخ تبدیل ہوتے ہی وہ بھی بدل سکتے ہیں۔

''پنجاب حکومت کیلئے ماڈل ٹائون ہی کافی ہے‘‘... یہ وہ سلوگن ہے جسے ڈاکٹر طاہرالقادری احتجاجی تحریک کا نعرہ بنا رہے ہیں۔ نواز شریف کی سعودی عرب سے ڈیل کی خبروں کی وجہ سے احتجاجی تحریک پہلے ایک ہفتے کیلئے مؤخر ہوئی۔ بلوچستان کا سیاسی بحران دوسرا ہفتہ بھی لے گیا۔ اب احتجاجی تحریک 17 جنوری سے شروع ہو گی... جس کا مرکز اور محور پنجاب ہی ہو گا... دیکھنا یہ ہے کہ ''ڈی چوک دھرنے‘‘ کی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کا ''لاہور دھرنا‘‘حکومت گرانے میں کتنا مددگار ثابت ہوتا ہے... یا پھر شہباز شریف اپنی ''دفاعی پالیسی‘‘ کی وجہ سے اس صورتحال کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ''نیّا‘‘ پار لگا لیں........

© Roznama Dunya