We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہم بھی بھولے بادشاہ ہیں!

13 3 21
14.01.2018

ہم بھی بھولے بادشاہ ہیں!

قصور میں جس طرح کی نالائقی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ پولیس اور ڈی ایم جی افسران نے مل کر کیا ‘ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تھکی ہاری بیورو کریسی اور بابو ازم کے اس دیمک زدہ نظام کو ختم کرکے اب سروس کے نئے نظام اور نئی شروعات کی ضرورت ہے۔

یہ پولیس اور ڈی ایم جی جو سنبھالے نہیں سنبھلتے تھے کہ ان سے زیادہ قابل کوئی پیدا نہیں ہوا، اب بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں۔ دونوں گروپس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے بڑھکیں مارتے تھے، ایک دوسرے کی نالائقیوں کی کہانیاں سنا کر اپنی انا کی تسکین کرتے تھے۔ اب دونوں ایک دوسرے کو طعنہ دینے کے قابل بھی نہیں رہے۔ جہاں قصور کے ڈی پی او ذوالفقار کی نالائقی سامنے آئی وہیں ڈپٹی کمشنر سائرہ عمر بھی بری طرح ناکام رہیں۔ ان کے گارڈز نے سیدھی فائرنگ کر کے دو افراد کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔ سائرہ عمر کو ڈپٹی کمشنر لگانے کا میرٹ یہ تھا کہ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ کی پرنسل ڈپٹی سیکرٹری تھیں۔ انہیں قصورکا ضلع دیا گیا۔

چونتیس لاکھ آبادی کے ضلع قصور کو مشکل ضلع سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ مشکل ضلع ایک ایسی خاتون بیورو کریٹ کے حوالے کیا گیا جسے اس سے پہلے کوئی چھوٹا موٹا ضلع چلانے کا بھی تجربہ نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ احتجاج کرتے ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں اور ان کے گارڈز نے دو افراد کو سیدھی گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ڈی ایم جی کلاس ہمیں بتاتی تھی کہ پولیس کے اوپر سے ڈپٹی کمشنر کا اختیار ختم کرنے سے یہ بے مہار ہو گئی ہے، اگر ڈپٹی کمشنر کو پولیس پر اختیار لوٹا دیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب کیا کہیں گے کہ ڈپٹی کمشنر کے گارڈز نے ہی تین لوگ قتل کر دیئے؟ فائرنگ کا حکم کس نے دیا تھا؟ کیا گارڈز نے خود فائرنگ کی یا پھر ڈپٹی کمشنر کا حکم تھا کیونکہ حکم کے بغیر پولیس گولی نہیں چلا سکتی تھی۔

حیران ہوتا ہوں یہ سوچ کر کہ ہندوستان جیسا بڑا خطہ، ہزاروں نسلوں اور قومیتوں کے کروڑوں لوگ، ہزاروں زبانیں پھر........

© Roznama Dunya