We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کپتان کی تقدیر میں کیا لکھا ہے

10 0 16
14.01.2018

کپتان کی تقدیر میں کیا لکھا ہے

کپتان کی تقدیر میں کیا لکھا ہے‘ اللہ جانے۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ آدمی اپنی افتادِ طبع کا اسیر ہوتا ہے۔ بے لچک آدمی اور بھی زیادہ۔

پروفیسر احمد رفیق اختر سے عمران خان کی ملاقات کو چار پانچ برس بیت چکے تھے۔ ایک دن ٹیلی فون پر میں نے ان سے کہا: اس آدمی کو میں آپ کے پاس لے آیا تھا مگر کچھ بن نہ پڑا۔ اسی آسودہ آواز میں جو اضطراب اور ہیجان سے ہمیشہ پاک ہوتی ہے‘ انہوں نے کہا: یہ ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ انس اور الفت کے ساتھ لوگوں کو اللہ کے دروازے تک لے جائیں۔

بہت بعد میں ایک بار‘ استفسار کیا: لوگ آپ کے پاس کس لیے آتے ہیں۔ کہا: نوے فیصد کارِ دنیا کے لیے۔ ایک بھلا سا دیہاتی آدمی پاس بیٹھا تھا۔ بے ساختہ اس نے کہا: میں بھی اسی لیے آتا ہوں۔ اپنے دکھوں کی گٹھڑیاں اٹھائے لوگ‘ درویشوں کے پاس جاتے ہیں۔ بیٹی کو طلاق ہونے والی ہے۔ کاروبار تباہ ہوگیا۔ ملازمت خطرے میں ہے۔ ڈپریشن نے آ لیا ہے۔ اگر واقعی عارف ہو تو وہ انہیں بتاتا ہے کہ خرابی کا سبب کیا ہے۔ اندازِ فکر میں خامی کہاں ہے۔ وہ انہیں دعائیں تعلیم کرتا اور مثبت اندازِ فکر اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ بتاتا ہے کہ زندگی رنج پالنے میں نہیں‘ خیالات کے جنگل اگانے میں نہیں‘ شکرگزاری میں ہوتی ہے۔ عملی اندازِ کار اپنا لینے میں۔ یاد رہے کہ دعا وہ ہوتی ہے جو رحمۃ للعالمینؐ کے ہونٹوں سے ادا ہو کر بابرکت ہو گئی ہو یا قرآن کریم میں رقم ہو۔ کسی جلیل القدر پیغمبر نے جب پروردگار کو پکارا ہو۔ تاریکیوں میں یونسؑ نے صدا دی۔ ''لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین‘‘۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے ایک ہوں۔

عارف جانتا ہے کہ انسان کیا ہے‘ زندگی کیا ہے‘ کائنات کیا ہے‘ اس کا خالق کون ہے اور اس کے قوانین کیا ہیں۔ پوچھا گیا تو درویش نے کہا ''تصوف شریعت کی نیت ہے‘‘۔ کشف المحجوب میں لکھا ہے:........

© Roznama Dunya