We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایئر مارشل اصغر خان… آئی جو ان کی یاد

4 0 3
14.01.2018

ایئر مارشل اصغر خان… آئی جو ان کی یاد

نیا سال طلوع ہوا ہی تھا کہ ایئر مارشل اصغر خان کا آفتابِ زیست غروب ہو گیا۔ 5 جنوری کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ بارہ دن بعد ان کی سالگرہ منائی جانے والی تھی۔ اس روز وہ 97 برس کے ہو جاتے۔ چند روز پہلے برادرم منظور گیلانی نے کہ ایئر مارشل کی محبت کا چراغ دل میں جلائے رہتے ہیں، فون کر کے یاد دلایا تھا اور تاکید بھی کی تھی کہ اس روز لازماً لاہور میں رہوں۔ ہائی کورٹ کے تاریخی ہال میں سالگرہ کی تقریب منعقد ہو گی... لیکن اس سے پہلے ہی وہ سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ میں ان دنوں بیرون ملک تھا، اس لئے آخری رسومات میں شرکت نہ کر سکا۔ دل مگر ان کی یاد سے معمور رہا اور اب تک ہے۔ ایئر مارشل نے جہاں پاک فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ کے طور پر اسے منظم کیا، وہاں پی آئی اے کے سربراہ کے طور پر بھی اپنا لوہا منوایا۔ سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو اسے آباد کر دیا۔ برسوں یہاں بھی ان کا سکہ چلتا رہا۔ شہر اقتدار پر تو ان کا جھنڈا نہیں لہرایا لیکن حزب اختلاف کے صحرا میں اذانیں ایسی گونجیں کہ اب تک کہیں نہ کہیں ان کی بازگشت سنائی دے جاتی ہے۔

ایئر مارشل مرحوم سے برسوں گہرا تعلق رہا۔ بھٹو اقتدار کے آخری دنوں میں لاہور کے ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا تو میاں محمود علی قصوری، جاوید ہاشمی، خورشید قصوری، ملک حامد سرفراز کے ساتھ میں بھی دھرا گیا۔ چند ہفتے ان کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل کی ایک ہی بیرک میں رہنے کا موقع ملا۔ لاریب وہ انتہائی دیانتدار اور بہادر شخص تھے۔ انہوں نے جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی پھر اسے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی میں مدغم کر دیا۔ بعد ازاں اس سے علیحدہ ہو کر تحریک استقلال تخلیق کی۔ جنرل ضیاء الحق کے طویل مارشل لاء نے ان کی سیاست کو بند گلی........

© Roznama Dunya