We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کشمیر کے ’’دہشت گرد‘‘ ؟

5 0 5
13.01.2018

کشمیر کے ’’دہشت گرد‘‘ ؟

میٹرک میں9.6 سی جی پی اے سے کامیابی حاصل کرنے والے 15 سالہ فرحان وانی کے باپ غلام محمد نے بھارتی فوج کے میجر کے حکم پر اپنے بیٹے کو فیس بک پر پیغام بھیجا ''جب سے ہمیں چھوڑ کر گئے ہو میرا جسم میرا ساتھ چھوڑتا جا رہا ہے۔ میری زندگی کی اب صرف ایک ہی تمنا ہے کہ ایک بار تمہیں دیکھ لوں، سینے سے لگا لوں... مجھ سے بہتر تم اپنی ماں گوہر جاں کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو‘ وہ تو جیتے جی مر چکی ہے، ایک بار‘ صرف ایک بار آ کر ہمیں مل جائو‘‘۔ 52 سالہ غلام محمد وانی نے میجر کو یقین دلایا کہ اس کا بیٹا یہ پیغام پڑھتے ہی لوٹ آئے گا کیونکہ وہ تو کبھی ایک رات بھی اپنی ماں کے بغیر نہیں رہا۔ فیس بک پر بھیجے گئے پیغام کو دو ہفتے سے زائد گزر گئے لیکن فرحان زندہ واپس نہ پلٹا بلکہ ایک صبح اس کی لاش اس کے گھر پہنچ گئی۔

پولیس نے فرحان کے گھر اور گائوں کا مکمل محاصرہ کیا ہوا تھا اور دوسری جانب بھارتی میڈیا اور ریاستی ریڈیو بار بار یہ بریکنگ نیوز دے رہا تھا کہ کوکرناگ پولیس کے ساتھ مقابلے میں حزب المجاہدین کا دہشت گرد فرحان وانی ہلاک ہو گیا۔ فرحان وانی جسے بھارتی میڈیا حزب المجاہدین کا بہت بڑا جہادی مجاہد اور دہشت گر دکا خطاب دے رہا تھا وہ پندرہ سالہ لڑکا فرسٹ ایئر‘ سائنس کا ایک ہونہار طالب علم تھا جس کا جنگ و جدل اور لڑائی سے کبھی تعلق ہی نہیں رہا تھا۔ سبھی حیران تھے کہ فرحان جو چودہ جون کو سہ پہر کے وقت فزکس کی ٹیوشن کے لئے گھر سے نکلا تھا، اچانک کدھر غائب ہو گیا۔

حزب المجاہدین میں شامل ہونے کے بعد اس نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ ایک دوپہر جیسے ہی اپنے کالج سے واپس گھر کی جانب لوٹا تو اس کے گھر کے قریب ایک کہرام برپا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کے بچپن کے دوست مسعود‘ جو برہان وانی کی شہادت کے........

© Roznama Dunya