We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

تہذیب اور آلودہ فضائیں

4 0 1
13.01.2018

تہذیب اور آلودہ فضائیں

تہذیب ایک وسیع تصور ہے۔ اس اصطلاح کی مختلف تعریفیں ہیں۔ الگ الگ تناظر ہیں۔ ایک دانشور نے اس لفظ کی بڑی مختلف اور جامع تعریف یہ کی ہے کہ تہذیب اس فاصلے کو کہتے ہیں جو انسان اور اس کی پیدا کردہ گندگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اس دانشور نے تہذیب کو صفائی و پاکیزگی کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے تہذیب یافتہ ہونے کا اندازہ اس کے ارد گرد کے ماحول، اس کے رہن سہن اور صفائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ تہذیب کو پرکھنے کی تھوڑی سی الگ کسوٹی ہے۔ اگر ہماری تہذیب یافتگی کو اس کسوٹی پر رکھ کر پرکھا جائے تو نتائج بڑے مایوس کن ہوں گے۔ جس ماحول میں ہم رہتے ہیں‘ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم لوگ برسوں پہلے آج سے کئی گنا زیادہ تہذیب یافتہ تھے۔ ہم نے اپنی فضائوں اورہوائوں کو آلود ہ کر دیا ہے۔ اپنے پانیوں میں زہر گھول دیا۔ اپنی گلیوں اور محلوں میں غلاظت اور کوڑے کے ڈھیر لگا دئیے۔

یہ زہریلی ہوائیں جن میں ہم سانس لیتے ہیں فطرت کی پیداوار نہیں۔ یہ ہمارے بے رحم اور نادان رویوں کی پیداوار ہیں۔ جس بے رحمی سے ہم نے ماحول تباہ کیا ہے، اسی بے رحمی سے ماحول ہمیں تباہ کر رہا ہے۔ اس ماحول پر ہم نے آبادی کا خوفناک بم پھینکا ہے۔ یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اس کو بے دردی سے استعمال کیا ہے۔ مارلی ماٹلین نے کہا تھا، یہ زمین ہماری ملکیت نہیں، ہم اس زمین کی ملکیت ہیں۔ ہمارے غلط استعمال کی وجہ سے ایک دن یہ سیارہ رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گا۔ جس طریقے سے ہم اس کی ہوائوں اور فضائوں کو آلودہ کر رہے ہیں اس کی جھلکیاں ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتی ہیں۔ ہماری فضائوں میں ہر سال آلودگی سے بنی دھند کی چادر پھیلتی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ہاں دھند کی وجہ سے سالانہ ساٹھ سے ستر ہزار آدمی مر جاتا........

© Roznama Dunya