We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

حادثہ اور سیاسی گدھ

5 0 5
13.01.2018

حادثہ اور سیاسی گدھ

ہم نے زخموں پر مرہم رکھنا اور انہیں سینا ہے یا پھر ان کا کاروبار کرنا ہے؟ہمیں اب ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔

مشاہدہ یہ ہے کہ لاشوں کو لوگ جنس ِ بازار بنا لیتے ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور صحافتی گدھ جائے حادثہ پر منڈلانے لگتے ہیں۔ ہر حادثے سے سیاسی اور کاروباری مفاد کشید کرتے ہیں۔ جذبات کا کاروبار سب سے آسان ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی انسانی احساسات کے نام پر اور کبھی بنامِ حرمتِ وطن ۔ سب حسنِ ظن دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک جیسے واقعات پر ایک شخصیت یا ایک جماعت کا ردِ عمل مختلف ہو تا ہے۔ لوگ احتجاج کے لیے پشاور سے قصور پہنچ جاتے ہیں مگر پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان نہیں جاتے۔

میں ایک بیٹی کا باپ ہوں۔ جانتا ہوں کہ زینب کے باپ پر کیا گزری ہو گی۔ کرب کی یہ شدت اگر برسوں احساس کی آنچ پرپڑی رہے تو شاید وہ پیمانہ وجود میں آئے جس سے زینب کی ماں کا دکھ ماپا جا سکے۔ باعثِ اطمینان ہے کہ قوم نے اس دکھ کو محسوس کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اظہار کیسے ہو رہا ہے۔ عرب لوگ بھی موت کا دکھ مناتے تھے۔ عورتیں بین کرتیں اور گال پیٹتیں۔ زبانِ حق ترجمان سے فرمان جاری ہوا: 'جس نے بین کیا،اپنی گالوں کو پیٹا ،وہ ہم میں سے نہیں‘۔

ہمیں آج غم زدہ خاندان کو پرسا دینا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہر گھر میں ایک نہ ایک زینت تو ضرور مو جود ہے۔ ہمیں سب کے تحفظ کا اہتمام کر نا ہے۔ یہ کام زخموں اور لاشوں کی تجارت کرنے والے نہیں کر سکتے۔ ان کے کاروبار کا تقاضا ہے کہ زخم لگتے رہیں اور ان کی دکان چلتی رہے۔ اس کے لیے ان لوگوں کو بروئے کار آنا ہوگا جن کے مفادات اس تجارت سے وابستہ نہیں۔ جنہیں انسانی حرمت زیادہ عزیز ہے۔

پہلی بات: ہر جرم حکومت کی کمزوری اور نااہلی کا اظہار ہے۔ جرم اسی وقت پنپتا ہے جب قانون کی گرفت کمزور........

© Roznama Dunya