We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نگلتے بنے‘ نہ اگلتے بنے

9 0 1
13.01.2018

نگلتے بنے‘ نہ اگلتے بنے

رچرڈ جی اولسن جان‘ امریکہ کے پختہ کار سفارت کار ہیں۔ ایک عرصے تک وہ پاکستان میں امریکہ کی نمائندگی بھی کرتے رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پاکستان کے لئے اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا لیکن رچرڈ اولسن نے موجودہ امریکی انتظامیہ کے جارحانہ تصورات کی موجودگی میں غیر جانبدارانہ خیالات کا اظہارکیا‘ جو ہمارے نقطۂ نظر سے ایک مثبت اقدام ہے۔ موجودہ پاک امریکہ صورت حال پر ''نیو یارک ٹائمز‘‘ میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

''پاکستان کو ملنے والی تمام سکیورٹی امداد کی معطلی کا فیصلہ کرنے کے بعد امریکی صدر‘ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ''پاکستان نے ہمیںجھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب وہ سخت گیر موقف اختیار کرنے جا رہی ہے جس کے آثار اگست میں دکھائی دینے شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان کو یہ امداد انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت اور فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے تحت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ کے موجودہ فیصلے کے تحت 1.3 بلین ڈالرکی سالانہ امداد متاثر ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ جذباتی طور پر پاکستان کو سزا دینا طمانیت بخش دکھائی دے جو گزشتہ 16 سالوں سے افغانستان میں امریکی دشمنوں کی حمایت کر رہا ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ مؤثر بھی ثابت ہوگا یا نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو شاید ہماری اتنی ضرورت نہیں جتنی ہمیں اس کی ہے۔ پاکستان کی پالیسی اور امریکہ کے محدود آپشنزکو سمجھنے کے لیے تاریخ اور جغرافیے کے معروضات کا ادراک بہت ضروری ہے۔ دریائے سندھ کے آر پار پھیلے ہوئے پٹی نما ملک‘ پاکستان کا دفاع آسان نہیں۔ اس کے مشرق میں ہموار میدان ہیں تو مغربی پہاڑوں پر ریاستی عملداری سے آزاد قبائل موجود ہیں۔ یہ........

© Roznama Dunya