We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

غیر سیا سی اور نا تجربہ کار ہی ٹھہرے

9 0 3
09.11.2018

غیر سیا سی اور نا تجربہ کار ہی ٹھہرے

30 ستمبر کی رات پاکستان بھر کے ٹیلی ویژن چینلز پر یہ خبر انتہائی دلچسپی اور خوشی سے دیکھی اور سنی گئی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرول ڈھائی روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں ساڑھے چھ روپے تک کی کمی کر دی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اس فیصلے پر عوام کا رد عمل دکھانے کیلئے کسی بھی ٹی وی چینل نے اس رات یا گلے دو چار روز تک اپنا کیمرہ‘ کسی بھی پٹرول پمپ پر عوامی تاثرات دکھانے کیلئے نہیں بھیجا‘لیکن جیسے ہی31 اکتوبر کو پٹرول پانچ روپے اور ڈیزل ساڑھے چھ روپے مہنگا ہونے کا اعلان ہوا‘تو پاکستان کے ہر بڑے شہر کے پٹرول پمپ پر پٹرول لینے کیلئے آنے والے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں والوں کے تاثرات لینے کیلئے الیکڑونک میڈیا نے دھاوا بول دیااور ہم آواز ہو گیا کہ مہنگائی کا طوفان آرہا ہے‘ عمران خان نے کیا وعدے کئے تھے اور یہ کیا ہو رہا ہے؟ ساتھ ہی پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر ‘ٹی وی ٹاک شو زمیں پٹرول کی بڑھائی گئی‘ ان قیمتوں کے کوڑے تحریک انصاف پر برسانے لگااورانہیں یہ موقع کسی اور نے نہیں‘ بلکہ وزیر خزانہ سمیت وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھے غیر سیا سی لوگوں کی نا تجربہ کاری کی وجہ سے ملا۔الغرض مروجہ سیاست میں تحریک انصاف کی حکومت کو اگر مس فٹ حکومت کہا جائے‘ تو غلط نہ ہو گا۔ انگریزی کا مشہورمقولہYou asked for it تحریک انصاف پر لاگو ہوتا ہے۔

اگرپاکستان میں تیس برس کا طویل تجربہ رکھنے والوں‘ عوام کو بیوقوف بنانے والوں اور ان کے جذبات سے کھیلنے کا فن جاننے والوں کی حکومت ہوتی ‘تو جو فیصلہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت نے30 ستمبر کو کیا‘ وہ نہ کیا جاتا‘ بلکہ پٹرول کی قیمتوں کو اسی طرح بر قرار رکھتے ہوئے پٹرول ڈھائی روپے سستا نہ کیا جاتا ‘ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی ساڑھے چھ روپے کمی نہ کی جاتی‘ تو اور 31 اکتوبر کو پٹرول کی موجودہ قیمتیں........

© Roznama Dunya