We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

تہیۂ طوفاں

10 8 2
08.10.2018

تہیۂ طوفاں

ماضیٔ گم گشتہ کے حکمران خاندان کی ادب نوازی نے دونوں کو تڑپا دیا۔ پہلے جالب اور اب غالب۔ اس مشقِ ستم میں ہتھوڑا گروپ کا شکار بن گئے۔ لیکن ذرا ٹھہریے۔ یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔

تحریر میں آپ بولنے والے کی شکل نہیں دیکھ سکتے‘ لیکن لفظ بولنے والا کریکٹر فوراً پکڑا جاتا ہے۔ اگر ایک دھیلے، ٹیڈی پیسے، ایک روپیہ یا قصیرہ بھی کرپشن کا سامنے آیا تو مجھے چوک میں اُلٹا لٹکا دینا۔ مجھے پھانسی قبول ہے۔ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے وہ کون تھا جو مائیک سر پر مار کر‘ ٹی وی لوگو گرا کر‘ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر‘ پستہ قامتی کے با وصف اُچھل اُچھل کر کود کود کر کہتا رہا‘ کرپشن کے الزام پر سزائے موت اسے قبول ہے۔لیکن ذرا رُکیے۔ یہ دورِ جمہور ہے‘ جہاں حکمرانیٔ دستور ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت DIGNITY OF MAN کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ بزعمِ خویش۔ حکمران خاندان کا شو باز۔ نوسر باز کے طور پر گرفتار ہوا۔ اربوں روپے کا گڑبڑ گھوٹالا۔ کسی اور نے نہیں شریکِ جرم فواد حسن فواد نے برسرِ بازار اچھالا۔ جی ہاں! وہ کرائون وٹنیس، جو وعدہ معاف ہی نہیں‘ حکمران خاندان کے ناک کا بال رہا ہے۔ جو 5 سال تک پنجاب میں سیاہ سفید کا مالک یا جدید آئی ٹی لغت میں شریفوں کی اے ٹی ایم مشین رہا۔ یہی شخص کارِ خاص مرکزی حکومت مل جانے پر مرکز میں افسر بکارِ خاص بنایا گیا۔

آئیے پہلے سن لیں راوی کے بقول نظامِ کرپشن کا مرکزی مہرہ جونہی پکڑا گیا‘ بِلک بِلک کر رونے لگا۔ اس نے ویڈیو پر بیان ریکارڈ کروایا اور سلطانی گواہ بننے کی درخواست گزار دی۔ احتساب کے تفتیش کاروں نے سلطانی گواہ کے بیان کی 2 سطح پر تصدیق کی۔

پہلے سرکاری ملازموں سے پوچھ گچھ ہوتی رہی‘ جو عجب کرپشن کی غضب کہانی میں کریکٹر ایکٹر کا کردار........

© Roznama Dunya