We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کامل محمد بخشا

7 2 0
05.10.2018

کامل محمد بخشا

رُومیِ پوٹھوہار کے دربار پر حاضری کے لیے عبداللہ کا پچھلے سال سے اصرار تھا۔ ساتھ ہی ہمارے پیارے سجادہ نشین کھڑی شریف میاں عمر بخش کی دعوت بھی۔ لیکن مصروفیت کا امتحان ناقابلِ بیان ۔ صبح سویرے نیب عدالت میں حاضری دی۔ پھر اسلام آباد بار کونسل کی ہائی ٹی میں شریک ہوا‘ جہاں اسلام آباد بار کونسل کے سینئر ممبران قاضی رفیع الدین بابر ، سید واجد گیلانی ، جاوید سلیم شورش ، لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسن رضا پاشا اور دور دراز سے تشریف لائے ہوئے وکلا نمائندوں اور لیڈروں سے گپ شپ کا موقع مل گیا۔

پورے 11 بجے وزیر اعظم عمران خان صاحب کے دفتر میں پہلی میٹنگ سٹارٹ ہوئی ۔ دوسری نشست پی ایس ٹو ، پی ایم اعظم خان صاحب کے دفتر میں تھی۔ جبکہ تیسری وزیر اعظم ہائوس کے چھوٹے آڈیٹوریم میں پی ٹی آئی کے 100 روزہ ایجنڈے کی پیش رفت کے بارے میں ۔ ہر جگہ میٹنگ کے شرکاء مختلف مگر ممتاز لوگ تھے۔ عمران خان نے دو مزید بریفنگز میں شرکت کے لیے کہا ۔ میر پور کے دوستوں کو 6 بجے شام پہنچنے کا ٹائم دے رکھا تھا۔ اس لیے ساڑھے تین بجے اگلی مصروفیات سے معذرت کر کے ہم شاہراہِ دستور سے کھڑی شریف کی طرف چل نکلے ۔

خطۂ پوٹھوہار کے سرسبز پہاڑوں کے درمیان۔ دریائے جہلم کے کنارے منگلا ڈیم کی سطح سے نیچے ہزاروں لوگوں کے درمیان۔ شبِ وجد کی کیفیت سے دوچار ہونے کے لیے ایک گھنٹہ 40 منٹ سفر طے کرنے پر ہم نے منگلا پل کراس کر لیا۔ سامنے یوتھ کا اکٹھ تھا۔ اکثر برٹش نیشنیلٹی ہولڈر خوشحال نوجوان ۔ انہیں پوٹھوہاری زبان میں ''انگلینڈیئے‘‘ کہا جاتا ہے۔ دمکتے چہروں والے یہ نوجوان اپنے ساتھ چمکتے ہار لے کر........

© Roznama Dunya