We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کچھ ممکن اور کچھ ناممکن مفروضے

5 1 8
13.01.2018

پچھلے کچھ دنوں سے دماغ ایک مختلف قسم کی پُراسراریت کا شکار ہے، اس میں نوعیت کے حساب سے عجیب و غریب اور اوٹ پٹانگ سے سوالات کسمسا رہے ہیں۔ اس صورت حال نے ذہن میں جب ممکنات کی ایک چادر سی تان دی تو ان میں سے کچھ ممکنات کو مفروضوں کی صورت میں کاغذ پر اتارنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہ رہا۔ ان بے سر و پا مفروضوں کے جواب پانا ہرگز مقصود نہیں، ارادہ محض اتنا ہے کہ الٹے سیدھے اس راستے پر دو قدم آپ کو بھی اپنے ساتھ لے چلوں اور ممکنات و ناممکنات کے اس کھیل میں آپ کو بھی شامل کرلوں۔

شاید یہ بھی ارادہ ہے کہ آپ کو دعوت دوں کہ آئیے! اپنے اپنے تخیل کے گھوڑے کو آج کُھلا چھوڑتے ہیں اور اسے اَن دیکھے دیسوں کی سیر کرنے کی آزادی مہّیا کرتے ہیں۔ کھیل شروع ہوتا ہے:

ذرا سوچیے کہ کیا ہی کمال ہو جو انسان دوسروں کا دماغ پڑھ لینے کی قوت حاصل کرلے؟ دھوکہ، جھوٹ، فریب، وعدہ خلافی اور بے وفائی جیسی کتنی ہی مصنوعات بازارِ کائنات میں بے کار نہیں ہوجائیں گی؟

اور کیا تماشا ہو اگر ہم اپنے خوابوں کو ریکارڈ (سی ڈیز میں) کرسکیں، ان خوابوں کے تمام ریکارڈز دیوار جتنی ایل سی ڈی اسکرین پر دیکھ سکیں اور دوسروں کو دکھا سکیں؟ کسی مخصوص خواب کو بار بار ریوائنڈ کرکے دیکھتے رہیں، اپنے پسندیدہ مناظر کو ساکن (پاز) کرکے مزے لے سکیں تو کیسا احساس ہوگا؟

اور کیا ہی اچھا ہو اگر ہمیں اپنی مرضی سے خواب دیکھنے کی سہولت مل جائے تو سوچیے کوئی کیا کیا خواب دیکھے گا اور دنیا میں پائی جانے والی خوشی کی سطح کہاں جا پہنچے گی؟

اور کیا خوب ہو اگر دیواریں بولنا شروع کردیں؟ ہماری کتنی ہی باتیں جو اکثر تنہائی میں ہم خود سے کرجاتے ہیں، وہ بھی اگر سامنے آ جائیں تو سوچیے کیا ماحول ہوگا؟

اور کیا عجب ہو جو فضا میں موجود، آج تک بولی گئی تمام انسانی آوازوں کو قید کرکے ریکارڈ کر لیا جائے؟ اس آڈیو خزانے میں سے کیسے کیسے لفظ نکلیں گے؛ جملے اور کہانیاں کیا کیا سماں باندھیں گی اور جانے کیا کیا سامنے آئے!

اور کیا غضب ہوجائے جو کائنات میں موجود تمام انسانی و غیر انسانی آوازیں میوٹ (خاموش) ہو جائیں؟ دنیا میں سکون نہیں ہو جائے گا؟

اور کیا ہو کہ کسی دن زمین کی برداشت ختم ہو جائے اور وہ اپنے سینے پر لدا انسانوں کا یہ بوجھ اُلٹا دے، ہمیں اپنے گھر سے بے دخل کردے؛ تو ہم کہاں جائیں گے؟

اور کیا ہو کہ کسی روز اچانک آسمان ہمارے سروں پر گرجائے؟

اور کیسا مزہ آتا اگر ہم عقل، دانش (انٹلیکٹ) بھی بلیوٹوتھ اور وائی فائی کے ذریعے دوسرے انسانوں کے ساتھ شیئر کرسکتے؟ کسی مرکزی انسانی انٹلیکٹ پر مضبوط سا انٹرنیٹ لگا کر وائی فائی کا پاس ورڈ سب کو دے دیا جائے تو مسائل بہت کم ہوجائیں گے یا بڑھ جائیں گے؟ مگر اس صورت حال میں یہ طے کرنا بہرحال مشکل ہو جائے گا کہ کون سی شخصیت سب سے ’’ہائر انٹلیکٹ‘‘ ہے۔ اور پھر اس بات کا بھی خطرہ برقرار رہے گا کہ کوئی اوسط یا کم دانش کا حامل شخص اس عمل کو ہائی جیک کرکے خود کو ہی اعلیٰ ترین دانشور قرار دے ڈالے اور وائی فائی سگنلز کے ذریعے سب کو بے وقوف بناتا پھرے۔ کیا آج کے آمر حکمران یہی نہیں کرتے؟ سوچیے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟

اور کیا ہی اچھا ہو اگر خون کی طرح جسم سے جسم میں ڈاکیومنٹ شیئرنگ بھی ممکن ہو جائے۔ آئیڈیاز، لطیفے، خیالات، یادیں، یادداشتیں، کہانیاں، قصے، عادتیں اور بہت کچھ یہاں سے وہاں آتے اور جاتے رہیں۔ کسی شخص میں کوئی بھی اچھی عادت دیکھی تو فوراً کنیکٹ کرکے وصول کرلی۔ دوسروں کی پڑھی ہوئی کتابیں اور........

© Express News