We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

احتساب اب کیوں یاد آیا؟

2 21 9
12.07.2018

پہلے نواز شریف کو سزا ہوئی اب سابق صدر آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب احتساب کے نام پر ہو رہا ہے، جو کہ ایک صاف ستھرا نام ہے اس چیز کا جسے چند لوگ سر اٹھاتی ’عدالتی مارشل لاء‘ پکارتے ہیں۔ عام انتخابات سے فقط چند ہفتے قبل اس قسم کے ڈرامائی اقدام نے پرسکون انتخابی عمل کے حوالے سے چند سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

کیا نواز شریف کی سزا کے چند دنوں بعد ہی زرداری اور ان کی ہمشیرہ سے جڑا اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا اسکینڈل منظر عام پر آنا محض اتفاق ہوسکتا ہے؟ یہ تو واضح ہے کہ اس غیر معمولی مبینہ جرم کے حوالے سے ایک عرصے سے تحقیقات جاری ہے۔ الزامات کی صداقت پر تو شبہ کرنے کی بظاہر تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کیس کو اس وقت ہی کیوں منظر عام لایا گیا ہے کہ جب انتخابات قریب تر ہیں؟

نواز شریف اور ان کی بیٹی سزا کو چیلنج کرنے آ رہے ہیں اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالا جارہا ہے، یوں صورتحال نہایت پریشان کن بن چکی ہے۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے اور پرسکون جمہوری منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے نگران حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیسی منصوبہ بندی کرتی ہے۔

پڑھیے: نواز شریف کے لیے کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ زرداری کے خلاف ایکشن ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے کہ جب اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کسی قسم کی ڈیل کے بارے میں کہانیاں گردش میں ہیں۔ ان شکوک و شبہات میں گزشتہ برس تھوڑی بہت سچائی کی جھلک نظر آنے لگی تھی جب سیکیورٹی اداروں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے قربت رکھنے والے اشخاص کے خلاف کارروائیاں اچانک روک دیں۔ بظاہر اس مبینہ ڈیل کا مقصد پیپلز پارٹی کو مسلم........

© Dawn News TV