We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہولی وڈ میں اپنا لوہا منواکر پاکستان آنے والے فاران طاہر سے خصوصی گفتگو

7 2 1
12.02.2019

خرم سہیل

عہدِ حاضر میں فاران طاہر کا شمار امریکی تھیٹر، ٹیلی وژن اور ہولی وڈ کے نمایاں ایشیائی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ امریکی مسلمانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ اور ذاتی رویے سے امریکیوں کی سوچ پاکستان اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت طور سے تبدیل کی ہے۔

وہ اب تک ہولی وڈ میں تقریباً 25 فلموں میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا جادو جگا چکے ہیں، اور ان کی معروف فلموں میں ’اسکیپ پلان ون‘ اور ’آئرن مین ون‘ شامل ہیں، جن میں انہوں نے آرنلڈ شوازنیگر، سلورس اسٹائلون اور رابرٹ ڈونی جونیئر جیسے معروف فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کی دیگر فلموں میں ’فلائیٹ ورلڈ وار ٹو‘، ’الیسیم‘، ’اسٹار ٹریک‘، ’چارلی ولسنز وار‘ اور ’دی جنگل بک‘ وغیرہ شامل ہیں۔

جنگل بک فلم سے ان کے فلمی کیرئیر کی ابتدا ہوئی تھی۔ ہولی وڈ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے فاران طاہر امریکا میں پیدا ہوئے، ابتدائی پرورش اور تعلیم و تربیت پاکستان میں ہوئی۔ 1980ء کو 17 برس کی عمر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوبارہ امریکا لوٹ گئے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے تھیٹر کے شعبے میں سند یافتہ ہونے کے بعد اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور وقت نے ان کے اس فیصلے پر کامیابی کی مہر ثبت کی۔ انہوں نے رائل شیکسپیئر تھیٹر کمپنی کے علاوہ متعدد تھیٹر گروہوں کے ساتھ مختلف کھیلوں میں کام کیا، جس میں سب سے مقبول کھیل ’اوتھیلو‘ تھا، جس کو امریکا میں بہت پسند کیا گیا۔ وہ اب تک 70 کے قریب تھیٹر کے کھیلوں میں اپنے ہنر کو پیش کرچکے ہیں۔ 1989ء میں فاران طاہر نے امریکی ٹیلی وژن سے فنی کیرئیر کی ابتدا کی اور ڈراما سیریز ’مڈ نائٹ کالر‘ میں کام کیا۔ اس کے بعد سے دورِ حاضر تک 180 ڈراما سیریز میں کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے 70ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن پر اپنی والدہ یاسمین طاہر کے ہمراہ ایک مختصر کردار بھی ادا کیا تھا، اسے ان کی اداکاری کی ابتدا کہا جاسکتا ہے۔

ان کا تعلق ایک علمی و ثقافتی خانوادے سے ہے۔ ان کے والد نعیم طاہر ایک اداکار اور مصنف ہیں۔ والدہ یاسمین طاہر ریڈیو پاکستان کی ممتاز صداکار رہیں، جبکہ ان کے نانا امتیاز علی تاج اردو دنیا کی معروف ادبی شخصیت اور مشہور زمانہ ڈرامے انار کلی کے خالق تھے۔ ان کے بھائی علی طاہر بھی اداکار ہیں۔ گزشتہ دنوں فاران طاہر اپنے پہلے اردو تھیٹر کھیل ’بھائی بھائی‘ کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھے جو کہ انگریز مصنف ’سیم شیفرڈ‘ کے کھیل ’ٹروویسٹ‘ سے ماخوذ شدہ ہے۔ انہوں نے اس کھیل میں اداکاری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہدایات بھی دیں۔

اس کے علاوہ 2015ء میں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں سالانہ افطار پارٹی پر بھی مدعو کیا تھا۔

ہم نے ان سے ملاقات میں تفصیلی گفتگو کی۔ ہماری کراچی کے دورے کے موقع پر یہ واحد ملاقات نہیں تھی بلکہ کراچی پہنچنے پر ان کو کراچی پریس کلب میں بھی مدعو کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے راقم کے ساتھ دوبارہ مکالمہ کیا۔

ان دونوں ملاقاتون میں ہولی وڈ، امریکی ٹیلی وژن اور تھیٹر، پاکستانی سنیما اور تھیٹر سمیت کئی دیگر اہم ثقافتی موضوع گفتگو کا حصہ بنے۔ یہ مکالمہ آپ کے لیے پیش خدمت ہے۔

سوال: اچانک یہ خیال کیسے آیا، امریکا میں شوبز کی مصروفیات سے وقت نکال کر پاکستان آئیں اور اپنے ملک میں اداکاری کے کیرئیر کو دوبارہ شروع کریں جبکہ اس کی ابتدا بھی تھیٹر کے کھیل سے ہو، پھر اس سلسلے کی شروعات کے لیے کراچی شہر کا انتخاب بھی کیا جائے، یہ سب کیسے وارد ہوا؟

جواب: پاکستان میں فلم اور ٹیلی وژن کے شعبے میں تو نیا کام ہو رہا ہے، شوبز میں جدت دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن تھیٹر کا شعبہ ابھی اس سطح تک نہیں پہنچا، جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ اس میں کوئی بہت جدید قدروں کے مطابق کام ہو رہا ہے۔

اس شعبے میں کام کرنے کی سخت ضرورت ہے ورنہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا والی بات ہے۔ ہمیں اپنے اس شعبے کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے اور کراچی سے تھیٹر کے کھیل کی پیشکش اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے، یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ یہ کھیل کسی کو پسند آئے یا نہ آئے، لیکن اس شعبے میں اپنے حصے کا عملی کام کرنے کی غرض سے میں یہاں آپہنچا ہوں۔

سوال: کراچی میں قائم نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) جس کے چیئرمین ضیا محی الدین ہیں، انہوں نے بھی مغربی تھیٹر اور ہولی وڈ کی چند فلموں میں مختصر کردار نبھائے، تو اس اکادمی کے ہونے کے باوجود بھی آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تھیٹر کے شعبے میں تسلی بخش کام نہیں ہو رہا؟

جواب: وہ تو صرف ایک ادارہ ہے، ایک کے ہونے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ تھیٹر کو صنعت کی شکل دینا پڑے گی جس کے لیے بہت سارے لوگوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔ صرف ایک فلم بنانے سے فلمی صنعت کے بنانے کا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا اس لیے اگر فلم اور ٹیلی وژن میں نیا کام ہو رہا ہے تو تھیٹر کے شعبے میں بھی ایسی کوششیں کرنا پڑیں گی تاکہ ناظرین کو اندازہ ہوسکے کہ اس شعبے میں بھی نیا کام ہو رہا ہے۔

سوال: آپ نے کراچی میں جو کھیل پیش کیا، اس کا نام ’بھائی بھائی‘ ہے، جو انگریز مصنف ’سیم شیفرڈ‘ کے کھیل ’ٹروویسٹ‘ سے ماخوذ شدہ ہے۔ آخری اس کھیل سے ہی پاکستان میں اپنے تھیٹر کیرئیر کی ابتدا کرنے کا کیوں سوچا؟

جواب: پیشہ ورانہ طورپر تواس کی وجہ یہ ہے کہ اس کھیل کی کہانی اور مزاج پاکستان میں پیش کیے جانے والے تھیٹر کے کھیلوں سے ذرا مختلف تھا۔ میں نے شعوری طور پر اس کہانی کا انتخاب کیا، لیکن یہ اتنابھی الگ نوعیت کا نہیں تھا کہ دیکھنے والا بیزار ہوجائے۔

میں نے اس کھیل کو اپنے بھائی علی طاہر کے ساتھ مل کر لکھا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کے مدمقابل اداکاری بھی کی ہے۔ اس کھیل میں دیگر 2 فنکار عامر قریشی اور حنا دلپذیر بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنے کام سے خوب انصاف کیا۔

جہاں تک ذاتی وجہ کی بات کی جائے تو وہ یہ ہے کہ بہت عرصے سے میں اور میرا بھائی علی اس نکتے پر بات کر رہے تھے کہ ہمیں ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ دو چار مرتبہ ایسے مواقع بھی ملے جس میں ساتھ کام کیا لیکن اس میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل اداکاری نہ کرسکے۔ اگر میں اداکاری کر رہا ہوتا تو وہ ہدایت کاری کر رہا ہوتا تھا لیکن ایک ساتھ مل کر اداکاری کرنے کی خواہش پوری نہیں ہو رہی تھی۔ پھر اب جاکے اس کھیل کے ذریعے وہ خواہش پوری ہوسکی۔

اس کھیل کو علی طاہر نے پروڈیوس کیا اور میں نے اس کی ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے جبکہ دونوں نے ساتھ مل کر لکھا اور اس میں کام کیا لہٰذا یہ بھرپور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہوا کھیل ہے جس کو ہم نے کراچی کے ناظرین کے لیے پیش کیا۔ اس سے زیادہ بھائی چارے کا کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے (مسکراتے ہوئے)۔

سوال: آپ تقریباً گزشتہ 40 برسوں سے امریکا میں مقیم ہیں، انگریزی تھیٹر، ٹیلی وژن اور سنیما میں کام کرنے کے باوجود اتنی اچھی اردو بول رہے ہیں، یہ دیکھ کر ذرا حیرت ہوئی کیونکہ پاکستان میں تو سب سے زیادہ پیسے اس بات پر خرچ ہو رہے ہیں کہ ہم انگریزی بولنے والے بن سکیں؟

جواب: اردو زبان ہم سب کی گھٹی میں ہے اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔ چاہے آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ ہیں جو ایسا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ یہ تو ہماری قومی زبان ہے اس سے کیسے کنارہ کشی ممکن ہے؟ یہ صرف زبان ہی نہیں تہذیب سے لگاؤ کی بات بھی ہے۔ اب میں نے ایک دن کراچی آرٹس کونسل میں اپنا کھیل ختم کرنے کے بعد ایک ہوٹل پر جا کر نہاری کھائی۔ زبان، غذا، رسم و رواج یہ سب ہماری تہذیب ہے، اس کو بھول جانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے والدین کو بھول جائے۔ میں ان خیالات کو اپنے اندر زندہ نہیں رکھوں گا تو میرے اندر کا انسان مردہ ہوجائے گا۔ امریکا میں گزاری ہوئی میری زندگی بھی اہم ہے، وہاں اور یہاں میں بہت فرق ہے لیکن ان دونوں پہلوؤں نے مل کر میری شخصیت کو بنایا ہے، دونوں کے مثبت نکتے میری سوچ کی اساس ہیں اور ان کو یکساں اہمیت دیتا ہوں۔

سوال: میں نے بھی یہ کھیل دیکھا ہے اور دیگر صحافی دوستوں نے بھی، ان کا خیال یہ ہے کہ آپ اور دیگر اداکاروں نے کھیل میں اچھی اداکاری کی لیکن اس کھیل کی کہانی کمزور ہے۔ اس میں پاکستانی ناظرین کے لیے ذومعنی جملے اور صورتحال کا استعمال بھرپور طور سے نہیں کیا گیا، پھر کہانی بھی طویل........

© Dawn News TV