We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سیاستدان فلمی مکالموں کے کوزے میں

3 1 15
13.01.2018

سند یافتہ ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل وغیرہ تو ہوتے ہی ہیں، لیکن ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمیں عمران خان کے روپ میں سند یافتہ صادق اور امین بھی میسر آگیا۔

اگر کوئی اور اُن کے بارے میں یہ دعویٰ کرتا تو ہم ماننے میں پس و پیش سے کام لیتے، لیکن یہ بات تو خود محترم عمران خان نے فرمائی ہے اور جس طرح کھانے پینے کی ڈبا بند اشیاء وزارتِ صحت سے منظور شدہ ہوتی ہیں، اُسی طرح اب کُھلے ہوئے عمران خان عدالت سے تسلیم شدہ صادق و امین ہیں، چنانچہ اُنہیں سند یافتہ صادق و امین ماننے میں کسے کلام ہوسکتا ہے؟

یہی نہیں، اُن کی صداقت اور امانت کا تقاضا ہے کہ اب اُن کی ہر بات سچ مان لی جائے، جیسے اُن کا ٹوئٹ کہ ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ۔‘ اُن کے خان ہونے اور دہشت گرد نہ ہونے پر کسے شبہہ ہے، پھر بھی انہوں نے شاہ رخ خان کا یہ ڈائیلاگ اپنے سند یافتہ صادق و امین ہونے کے اعلان کے طور پر ٹوئٹ کیا، مگر یہ جملہ شاہ رخ نے فلم ’مائی نیم از خان‘ میں دعوے کے طور پر نہیں بطور صفائی بولا تھا۔

ذاتی خیال تو یہی ہے کہ خان صاحب کے لیے موزوں ترین فلمی ڈائیلاگ یہ نہیں، بلکہ اُن کی شخصیت کا عکاس یہ مکالمہ ہے، ’ایک بار جو کمٹمنٹ کردی، اُس کے بعد میں خود کی بھی نہیں سُنتا،‘ اور اُن کا ہر ادارے سے مطالبہ اور دلی خواہش ہوتی ہے، ’یہ ہاتھ ہم کو دے دے ٹھاکُر۔‘

خان صاحب کی ہی طرح دوسرے سیاست دانوں پر بھی اُن کی شخصیت، سیاست اور موجودہ حالات کے اعتبار سے بعض فلموں اور ڈراموں کے ڈائیلاگ ’فٹ‘ بیٹھتے ہیں۔ آئیے........

© Dawn News TV