We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

حالات اور ذرائع ابلاغ

2 0 19
21.12.2018

پاکستان میں ذرائع ابلاغ آج کل جن حالات سے دوچار ہیں، وہ اس لحاظ سے تو بہت زیادہ باعث تشویش ہیں کہ ستمبر کے مہینے سے ذرائع ابلاغ میں بنیادی حیثیتوں میں کام کرنے والوں کو اس عذر پر کہ ادارے کے مالی وسائل بحران کا شکار ہیں، اس لئے آپ کو فارغ کیا جاتا ہے۔ ملازمت کا دورانیہ نہیں دیکھا جاتا، ملازم کی اہلیت اور صلاحیتوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ہے،بلکہ بہت زیادہ احسان کیا جاتا ہے کہ انتظامیہ ایک ماہ کی تن خواہ کا چیک تھما دیتی ہے اور ملازم کا گیٹ بند کردیا جاتا ہے۔

گیٹ بند کرنے کی اصطلاح ذرائع ابلاغ کے مالکان نے صنعتی اداروں سے حاصل کی ہے جو ٹریڈ یونین میں کام کرنے والے محنت کشوں کا گیٹ بند کردیا کرتے تھے۔ دسمبر کے مہینے میں تو ملک کے سب سے بظاہر بڑے ادارے نے اس ادارے کے تحت شائع ہونے والے اخبارات کو ہی بند کردیا اور ملازمین کو ان کے بقایاجات ادا کر کے جان چھڑا لی۔ کسی قسم کی معاشرتی ذمہ داری کا کوئی احساس یا ندامت نہیں ہے ۔

غرض صحافی نہ ہوئے ، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے محنت کش ہوئے،جنہیں دوسرے روز ہی فارغ کیا جاتا ہے۔ کراچی میں بند کیا جانے والا شام کا انگریزی اخبار تو گزشتہ57برس سے شائع ہو رہا تھا۔

ادارہ اس اخبار کو نقصان میں تو نہیں چلا رہا ہوگا، لیکن صحافیوں کو بے روز گار کرکے حکومت کو یہ تاثر دینا ہے کہ وہ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ اسی ادارے نے شام کو شائع کیا جانے والا اردو اخبار بھی بند کردیا۔ ملازمین کو فارغ کردیا گیا۔ یہ اخبار بھی اگر نقصان میں شائع ہو رہا تھا تو اب تک کیوں اس کی اشاعت جاری تھی۔ پہلے کیوں نہیں بند کر دیا گیا تھا۔

لاہور ہو یا کوئی اور شہر وہاں بھی اخباارات سے ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے، ٹی وی چینلوں سے ملازمین کے اخراج کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے، حالانکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اکتوبر کے مہینے میں سہ فریقی اجلاس میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ذرائع ابلاغ سے ملازمین کو فارغ نہیں کیا جائے گا، جس پر اداروں کے مالکان نے کان نہیں دھرا، جنہیں فارغ کیا گیا تھا، انہیں بحال کرنا تو الگ رہا، بعد میں بھی ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ مالکان کی اپنی منطق ہے کہ پیسے نہیں ہیں،جن لوگوں نے سالہا سال پیسے کمائے، اندرون اور بیرون مُلک اثاثوں کا ڈھیر جمع کیا، وہ چند ماہ کا خسارہ، اگر ہو بھی رہا ہے، تو برداشت کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

یہ معاملہ اکثر تاجروں کا ہوتا ہے، جن سے پوچھا جائے کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے تو فوری جواب یہ حاضر ہوتا ہے کہ نقصان ہو رہا ہے۔ وہ نقصان کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ ان........

© Daily Pakistan (Urdu)