We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بابا رحمتے کے نام

5 1 17
14.01.2018


کالم کا آغاز دو التجاؤں سے، خدارا معاشرے میں اتنا خوف نہ پھیلائیں کہ دم گھٹنے لگے۔ زینب قوم کی بیٹی تھی نہیں لیکن اس کے بہیمانہ قتل کے بعد قوم کے ہر فرد نے اسے اپنے بچوں کی طرح محسوس کیا۔ لیکن اس کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ ہر شہر ہر گاؤں میں بس ایک ہی کام ہو رہا ہے اور کسی جگہ بچے محفوظ نہیں، معروف سنگر اور سماجی کارکن شہزاد رائے کے مطابق پاکستان کا ہر پانچواں بچہ زیادتی کا شکار ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہم دے رہے ہیں، ویسے ہم مسلمان ہیں اور اسلام کے ٹھیکیدار لیکن اگر شہزاد رائے کی بات تسلیم کر لیں توہمیں شرم نہیں محسوس ہوتی ایسے معاشرے کا حصہ کہلاتے ہوئے۔ اتنا گند اتنا تعفن۔


زینب پر اتنا لکھا جا چکا کہ اب میں کیا لکھوں، زینب کے قتل پر آنسو بہائے گئے، رقت آمیز مناظر دیکھے گئے، ہر صاحب اولاد کو دل گرفتہ دیکھا گیا، وہیں پولیس کی بے حسی، حکمرانوں کی سنگدلی اور سیاسی راہنماؤں کی پوائنٹ سکورنگ دیکھ کر میرا دکھ مزید گہرا ہوا۔ کیا لوگ ہیں ہم بے حس، خود غرض جانور۔


بجھ بھی چکی یہ شمع جل بھی چکے پروانے
اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
اور آخری التجا عمران خان کی نجی زندگی پر جتنی مرضی کیچڑ اچھالیں، یہ ہمارا قومی فریضہ ہے، ہم سیاست کا گند ایک دوسرے کے منہ پر مل کر خوش ہوتے ہیں۔ نکاح جیسی سنت کے حوالے سے نکاح کرنے والے پر پھبتیاں کستے ہیں۔ لیکن خدارا ہمارے گھر میں بھی خواتین ہیں، ہم اس سیاست کی بدبودار غلیظ جنگ میں معزز گھرانوں کی مختلف خواتین کی تصاویر بشریٰ بی بی کے........

© Daily Pakistan (Urdu)